لانگ مارچ ممکنہ تشدد اور گرفتاریاں،عدالت سے اہم خبر آگئی

لانگ مارچ ممکنہ تشدد اور گرفتاریاں،عدالت سے اہم خبر آگئی
کیپشن: Lahore High Court
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں ممکنہ تشدد، گرفتاریوں کیخلاف درخواست پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں تحریکِ انصاف لانگ مارچ شرکاء پر ممکنہ تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی سے کل رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کو آج دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس چودھری عبدالعزیز نے انصاف لائرز فورم کے رہنما یوسف رشید وائیں کی درخواست پر سماعت کی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ کل درخواست دائر کی تھی، رات سے لانگ مارچ روکنے کیلئے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

جسٹس چودھری عبدالعزیزنے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے ٹی ایل پی، ن لیگ، جے یو آئی ف کیخلاف بھی اسی طرح کیا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب کسی کی حکومت آتی ہے تو دوسروں کیخلاف ایسی کارروائیاں شروع کردی جاتی ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جتنی رکاوٹیں ہیں، ان کو ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ غیر قانونی مقدمات درج نہ کیے جائیں۔ جوغیرقانی چھاپے مارے جا رہے ہیں انہیں روکنے کا حکم دیا جائے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے مؤقف بیان کیا کہ پولیس دیواریں پھلانگ کر نوجوانوں، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو پکڑ کر ہراساں کررہی ہے۔

جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کہا کیا ہم حکم دے دیں کہ قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو کوئی بات نہیں۔

عدالت نے کہا کہ لاء آفیسر صاحب آپ چیف سیکریٹری اور آئی جی سے کل کیلئے رپورٹ منگوا لیں۔پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ کل لانگ مارچ ہے کیس کو آج ہی سماعت کیلئے دوبارہ مقررکر دیں جس پرعدالت نے کہا کہ کل رپورٹ آئے گی تو دیکھ لیں گے۔

جسٹس چوہدری عبدالعزیز نےکیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔تحریک انصاف کی جانب سے درخواست میں وزیراعظم، وزیرداخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ لانگ مارچ کیلئے ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے۔

پی ٹی آئی کی درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ لانگ مارچ کے قافلوں میں خواتین، بچے، بزرگ شہریوں سمیت ہر طبقہ فکرکے لوگ شامل ہونگے۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے بیانات سے لگتا ہے لانگ مارچ کے شرکاء کو روکا جائے گا۔ میڈیا خبروں کے مطابق پی ٹی آئی کے سرکردہ افراد کی گرفتاری کیلئے لسٹیں بھی بنائی گئی ہیں۔

درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ خدشہ ہے کہ ریاستی طاقت استعمال کرکے لانگ مارچ کے شرکاء پر تشدد کیا جائےگا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ حکومت کو لانگ مارچ کے شرکاء کو گرفتار کرنے سے روکنے اورلانگ مارچ کے شرکاء پر ممکنہ تشدد سے روکنے کا حکم دیا جائے۔