سی پیک کے مقابلے میں امریکی صدر  کا نیا پراجیکٹ  شروع کرنیکا اعلان

سی پیک کے مقابلے میں امریکی صدر  کا نیا پراجیکٹ  شروع کرنیکا اعلان
کیپشن: Joe Biden
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :  سی پیک کے مقابلے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹوکیو میں ایک نئے انڈو پیسفک تجارتی نیٹ ورک کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر بھارت اور جاپان سمیت 13 ممالک شامل ہیں،  چین نے کہا ہے کہ یہ حکمت عملی بالاخر ناکام ہوگی۔

جوبائیڈن نے ٹوکیو میں ایک خطاب میں کہا ہے کہ امریکا اور جاپان 11 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر انڈو پیسفک اکنامک فریم ورک کا آغاز کریں گے۔ یادرہے امریکی صدر ان دنوں ٹوکیو میں موجود ہیں، جہاں وہ کواڈ ممالک کے گروپ میں شامل جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ فریم ورک خطے میں ہمارے قریبی دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ، 21 ویں میں اقتصادی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے درپیش اہم چیلنجز کے خلاف کام کرنے کا عزم ہے۔آئی پی ای ایف نامی اس اتحاد کا مقصد امریکی اتحادیوں کو ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے تجارتی کردار کا متبادل فراہم کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ فریم ورک ریاست ہائے متحدہ اور ایشیائی معیشتوں کو سپلائی چین، ڈیجیٹل تجارت، صاف توانائی، کارکنوں کے تحفظ اور انسداد بدعنوانی کی کوششوں سمیت مسائل پر زیادہ قریب سے کام کرنے میں مدد کرے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور اس کے تائیوان پر حملہ کرنے کے امکان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تائیوان کے دفاع کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

دوسری طرف چین کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایشیا میں امریکی سفارت کاری بالآخر ناکام ہو گی۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ امریکہ کی نام نہاد انڈو پیسیفک سٹریٹیجی درحقیقت تقسیم پیدا کرنے، مخاصمت کو ابھارنے اور امن کو تباہ کرنے کی حکمت عملی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی کو جس طریقے سے بھی پیش کیا جائے بالآخر اس نے ناکام ہونا ہے۔