سو برس کا زندہ بنگالی

سو برس کا زندہ بنگالی

خاورنعیم ہاشمی:اس پراسرار، پھرتیلےآدمی کو جس کی عمر پچاس کے قریب لگتی تھی، میں نے پہلی بار لاہور کے ریگل چوک میں سموسوں کی دکان پر دیکھا ، میں نے اسے پہلی نظر دیکھتے ہی مرلی دھر بنگالی کا نام دیدیا.

بنگالی نے ایک بغل میں فائل دبا رکھی تھی اور اسکےایک ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔آنکھوں پرنظر کا چشمہ۔تھوڑی دیر بعد ایک اورآدھا گنجاآدمی ہوٹل میں داخل ہوا اور اس کی ٹیبل پر اسکے سامنے بیٹھ گیا، پنٹ قمیض میں ملبوس یہ دوسرآدمی بھی پچاس سے اوپر دکھائی دیتا تھا، اس کالے اور بھدےآدمی نے بھی نظر ٓکا سیاہ چشمہ لگایا ہوا تھا ،، دونوں میں گفتگو شروع ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے عوامی لیگ کے قائد شیخ مجیب الرحمان،حسین شہید سہروردی اور مولانا عبدالحمید بھاشانی کے نظریاتی ساتھی ہیں، 1970 میں اس وقت میں لارنس روڈ پر قائم شاہ حسین کالج میں پڑھ رہا تھا۔ اس کالج کی عمارت جنرل شیر علی خان کی کوٹھی سے اندر جانے والی سڑک کی نکڑ پر تھی۔آج کل اس عمارت کے بازو میں روزنامہ خبریں اور چینل فائیو کے دفاتر ہیں ۔ کالج میں جو پیریڈ بھی خالی ہوتا میں ریگل چوک پہنچ جاتا۔جہاں سموسوں کی یہ دکان ہی میرا ٹھگا نہ تھی۔ وہاں میرے بہت سارے ٓوارہ گرد دوست بھی ٓ جایا کرتے تھے۔ سموسوں کی یہ دکان ٓج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ اور تو اورآج 45 سال بعد اس کا پٹھان ویٹرجسے ہم خان کہتے تھے بھی وہیں کام کر رہا ہے۔آج جب کئی سال بعد بھی اس دکان پر جانے کا اتفاق ہو تو 1970 واپس آ جاتا ہے ۔ اس ویٹر کو بھی اس دور کے ایک ایک آدمی کا نام یاد ہے، بنگالی سے ہماری دنوں میں ہی اچھی دوستی ہوگئی، میرے تمام دوستوں سے بھی اس کی جان پہچان بڑھتی گئی، بنگالی بولتا تو اردو تھا مگر تھا پنجابی اور اس کا اصل نام شہباز تھا، اس کی بغل میں جو فائل ہمیشہ رہتی تھی، اس بارے پتہ چلا کہ اس میں ہندوستان سے ہجرت کرکےآنے والوں کے کلیمز کی دستاویزات ہوتی ہیں، وہ راہ چلتے اجنبی لوگوں کو بھی گھیر لیتا اور آمادہ کرتا کہ وہ اپنی ہندوستان کی جائیداد کے بدلے بھی پاکستان میں جائیداد کا کلیم بھریں، لوگ اس کو کہتے کہ بھائی وہ بٹوارے سے پہلے کے لاہور میں رہ رہے ہیں، ان کا کوئی کلیم نہیں بنتا، مگر بنگالی انہیں کلیمز کے راستے بتاتا اور کہتا کہ میں تو بلا معاوضہ خدمات د یتا ہوں، بس آپ کا بھلا چاہتا ہوں۔ بعض لوگ اس کے جھانسے میں آ بھی جاتے۔ ایک بار ہم نے اسے ہائی کورٹ کے جج کی گاڑی رکوا کر اس سے پیسے لیتے ہوئے بھی دیکھا، گھر تو اس کا جنرل اسپتال کے قریب تھا مگر اس نے شہر کے اندر بھی کئی ٹھگانے بنا رکھے تھے، بنگالی کے ساتھ پہلی ملاقات میں جو دوسرا موٹا اور بھدا سا آدمی دکھائی دیا تھا، اس کے بارے بعد میں پتہ چلا کہ اس کا نام بدر منیر ہے اور وہ بنگالی بہاری ہے، اخبارات میں سیاسی کالم لکھتا ہے، پاکستان ٹوٹنے کے بعد اس نے اسی موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی، اس کے مضامین نوائے وقت میں چھپا کرتے تھے، یہ دانشور پاکستان میں ہی رہا اور یہیں وفات پائی۔ یہ پاکستان میں سیاسی حوالے سے انتہائی پرآشوب دور تھا، ایک دن ہم نے اسے دیال سنگھ بلڈنگ والے شیزان ہوٹل میں حسین شہید سہروردی، اور شیخ مجیب کے ساتھ چائے پیتے اور انتہائی سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ ایک بار وہ شیزان میں ہی ملک معراج خالد اور 1880 میں پیدا ہونے والے بھاشانی کے ہمراہ بھی دیکھا گیا۔ مشرقی پاکستان کی بڑی جماعتوں نیشنل عوامی پپارٹی اور عوامی لیگ کے لاہور مین ووٹ تو نہیں تھے،لیکن دانشورحلقوں میں ان سیاسی پارٹیوں اورانکے قائدین کے لئے احترام بہت تھا،مشرقی پاکستان کی یہ دونوں پارٹیاں لیفٹ ونگ کی ماسکو نواز تھیں، امریکہ کے ساتھ پاکستان کے seato اور cento معاہدوں کی سخت مخالف بھی تھیں۔ 

پھر دسمبر کا مہینہآ گیا۔ مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کا صرف ایک امیدوار تھا، ملک حامد سرفراز۔ میں ملک صاحب کے الیشن آفس کا انچارج مقرر ہوا۔ یہ آفس نسبت روڈ پر لیبر ہال سے پہلے ایک گلی میں قائم ہوا، مجھے کہا گیا کہ جو کارکن اور ساتھی اس دفتر میں آئیں ان کے لئے کھانا اور چائے چوہدری کے ہوٹل سے ادھار منگوائی جا سکتی ہے، بل ملک صاحب دیں گے، لاہور میں تو عوامی لیگ کا کوئی ووٹر تھا نہ کوئی سپورٹر، اس انتخابی آفس میں ٓتا کون؟

 ہاں البتہ دوپہر کو مفت کھانا کھانے والے لوگ بہت آجاتے،یہ وہ لوگ ہوتے جنہیں بنگالی وہاں ہوٹل میں بلوا لیا کرتا تھا۔ملک صاحب سمجھتے رہے کہ آنے والے عوامی لیگ کے حامی ہوتے ہیں۔

 دسمبر 1970 کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب نے مغربی پاکستان سے بھٹو صاحب سے زیادہ نشستیں لیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھٹو کو ہر قیمت پر اقتدار سونپنا چاہتی تھی۔ سو پاکستان نے ٹوٹنا تھا اور پاکستان ٹوٹ گیا بنگالی کی سیاست ختم ہو چکی تھی اس نے ساری توجہ عوامی خدمت پر مرکوز کردی۔ وہ کسی بھی راہ چلتے شخص کو اپنے جال میں پھنسا لینے کا گر جانتا تھا، وہ ہمیشہ خود کو رضاکار کے طور پر متعارف کراتا۔ اور کسی کا کوئی بھی کام ہو اسے حل کرانے کی گارنٹی دے دیتا۔ اور اس طرح اس کی جیب ہمیشہ گرم رہتی اور وہ اپنے حلقہ یاراں کو ہمیشہ اپنے پلے سے چائے سموسے کھلاتا۔ ہر چائے خانے کے ویٹر اس نے دوست بنا رکھے تھے، اس کی جیب میں پیسے ہوں نہ ہوں اور کسی بھی ہوٹل میں کھانا کھلا دیا کرتا تھا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے کسی خاندان کو کوئی بہت بڑا کلیم دلوا کر خود امیر بننا اس کا سب سے بڑا خواب رہا۔ جب کوئی آسامی نہ ہوتی تو وہ کوئی بھی کام کر لیتا تھا، اسے میں نے کپڑے دھونے والا سرف بناتے بھی دیکھا، وہ سرف بنا کر بازار سےآدھی قیمت پر فروخت کرتا ہوا بھی دیکھا گیا ، ایک بار میں نے اسے اچھرے والی نہر پر زمین پر بیٹھے نان چھولے بیچتا بھی دیکھا، ایک بار میرا چھوٹا بھائی ڈاکٹر اختر بھی اس کے جھانسے میں آ گیا اور پیر غازی روڈ پر اپنے کلینک میں بنگالی کو کمپاؤنڈر رکھ بیٹھا، جب ڈاکٹر اختر کا ٹائم ختم ہوجاتا اور وہ کلینک سے چلا جاتا تو وہاں بنگالی کے مریض آنا شروع ہو جاتے۔ مجھے کئی سال بعد بنگالی نے بتایا کہ وہ مریضوں سے کہتا تھا کہ ڈاکٹر اختر چھوٹا اور وہ بڑا ڈاکٹر ہے، ڈاکٹر اختر کسی مریض کو ایک گولی دیتا تو وہ اسی مریض کو دو گولیاں دے دیتا، جس سے وہ مریض جلدی شفا یاب ہو جاتا اور بھی اس طرح اپنی ڈاکٹری چلاتا رہا،پھر مجھے پتہ چلا کہ اکثر ڈاکٹروں کے کمپاؤڈر یہی واردات کرتے ہیں۔

1980 تک میری اس سے ملاقاتیں رہیں، پھر سال چھ مہینے بعد ہی کہیں ملنا ہوتا، آخری ملاقات 2002 میں جیو کے آفس میں ہوئی، پھر اب تک کا طویل وقفہ۔ میں بہت عرصے سے ریاض صحافی سے کہہ رہا تھا کہ اس بڈھے شیطان کو ڈھونڈو، میں کئی بار ریگل چوک میں سموسوں کی دکان پر بھی گیا۔پٹھان ویٹر کہتا تھا کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور کبھی کبھار آتا بھی ہے، لیکن اس کے پکے ٹھگانے کا علم نہیں۔ اور اب ہفتے دس دن پہلے ریاض نے اسے ڈھونڈھ ہی لیا۔ وہ پچھلے اتوار اسے لے کر میرے پاس آیا ، بنگالی تو بالکل وہی بنگالی تھا، 45 /46 سال پہلے والا بنگالی۔ ایک فائل اب بھی اس کی بغل میں تھی۔ جائیداد کے کلیمز والی فائل، میرا پہلا سوال اس کی عمر کے بارے میں تھا۔اگلے سال مارچ میں سینچری مکمل کر لوں گا، اس کی موجودگی میں ایک اور نوجوان مجھ سے ملنے آ گیا، وہ نوجوان واپس جانے لگا تو بنگالی نے اسے روک لیا۔ تم پیچھے سے کہاں سے ہو ؟ نوجوان نے حیرت سے پوچھا، کیا مطلب؟ بھئی ہندوستان کے کس شہر سے ہجرت کرکے آئے تھے؟ نوجوان نے جواب دیا کہ ہم قیام پاکستان سے پہلے کے ہی لاہوری ہیں۔ بنگالی پھر بھی باز نہ آیا اور جیب سے ایک پرچی نکال لی، جس میں انڈیا کے کئی شہروں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ وہ زبردستی شہروں کے نام اسے بتاتا رہا کہ شاید وہ نوجوان کسی ایک شہر کے نام پر چونک جائے اور کہے کہ ہاں، ہمارا وہ رشتےدار ہندوستان کے فلاں شہر سے آیا تھا۔

-