منشیات کیس،پرسنل بیگ میں کیا چیز تھی، راناثنااللہ نے بتادیا

منشیات کیس،پرسنل بیگ میں کیا چیز تھی، راناثنااللہ نے بتادیا

(شاہین عتیق)انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں رانا ثناء اللہ پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی، عدالت نے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی، رانا ثناء اللہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ منشیات برآمدگی کیس میں یا مجھے سزا ہوگی یا شہریار آفریدی کو سزا ہوگی، مجھے انصاف کی توقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق رانا ثنااللہ کے خلاف منشیات کیس کی سماعت ہوئی، انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کےخلاف مقدمے پر سماعت کی، دوران سماعت سابق صوبائی وزیر کے سینئر وکیل اعظم نذیر تارڑ کی عدم دستیابی کی وجہ سے فرد جرم عائد نہ ہوسکی،عدالت نے منشیات کیس کی سماعت5 دسمبر تک ملتوی کردی۔

رانا ثنااللہ نے کہا اس مقدمے میں انہیں یا پھر شہر یار آفریدی کو سزا ہو گی، رانا ثناءاللہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ انہیں عدالت مجھے انصاف فراہم کرے گی،سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اے این ایف نے گاڑی سے بیگ نکالا، بیگ میں میرے کپڑے تھے۔اس میں کیا چیز ڈالی گئی اس کا مجھ کوئی علم نہیں۔

حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کورونا 6 ماہ رہ گیا تو بھوک سے مار دے گا کیونکہ حکومتی کورونا آٹا کھاگیا، چینی کھاگیا اور ہر چیز میں تباہی ہے، حکومتی کورونا میں 100 فیصد موت اور تباہی کا خطرہ ہے۔

فاضل جج  نے ریمارکس دیے کہ اعظم نذیر تارڑ نے متفرق درخواست پربحث کرنی ہے،کیس فرد جرم کی کارروائی کے لیے فیکس ہے،فریقین کے وکلاء دلائل دیں عدالت بحث سنے گی،فرہادعلی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اعظم نذیر تارڑ پنجاب بارکونسل میں مصروف ہیں،گزشتہ سماعت پر بارکونسل کے انتخابات کا بتایا تھا۔

عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وکالت نامہ بھی ہے،سینئر وکیل ہیں بحث کریں،ملزم کے وکیل نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کی اجازت کے بغیر دلائل نہیں دے سکتا۔