ماسک اور آلودگی

Face mask Pollution
کیپشن: Face mask Pollution
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( شاہین عتیق) تیز ہوا چل رہی تھی ایسا لگتا تھا کہ ہوا رکنے کا نام نہیں لے گی سڑک کے کنارے اس خراب موسم میں چار دوست آپس میں گفتگو کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک قریب پڑی گندگی کی ڈھیر سے دو تین ڈسپوزل فیس ماسک ڈوری سمیت اڑتے ہوئے آے اور کپڑوں کو چھوتے ہوئے گزر گئے جبکہ چند ایک منہ سے ٹکرا گیا چاروں نے حیرانگی سے اپنے چاروں طرف دیکھا تو ہر طرف ڈسپوزل ماسک بکھرے نظر آے جبکہ دور ایک ڈھیری پڑی تھی جہاں سے یہ اڑ کر چاروں طرف جا رہے تھے ہر طرف ڈسپوزل ماسک ہی ماسک تھے ان کا کہنا تھا کہ ہم تو آلودگی کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ یہ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہی اب نئی آلودگی ماسک کی صورت جنم لے چکی ہے۔

 کسی بھی علاقے کی سڑک گلی محلے یا مارکیٹوں سے گزریں آپ کو میلے کچلے ماسک جگہ جگہ پڑے نظر آئیں گے۔کورونا کی وباء سے بچنے کے لیے ماسک لگانے انتہائی ضروری ہے ایسے ماسک ہونے چاہیں جن کو دھو کر کئی کئی روز روز استعمال کیا جا سکے لیکن ہم زیادہ تر ڈسپوزل ماسک استعمال کرتے ہیں اور ایک روز کے استعمال کے بعد اس کو ضائع کر دیتے ہیں لیکن ضائع کرتے وقت اسے اتار کر سٹرک پر ڈوری سمیت پھینک دیتے ہیں یہی وجہ ہے آپ کو سڑکوں پر جگہ جگہ ڈسپوزل ماسک نظر آئیں گئے اکثر لوگوں کے جوتوں میں چلتے ہوئے ماسک کی ڈوریاں اڑ جاتی ہیں جس کو شخص بے خبری میں دور دور تک ساتھ لیے پھرتا ہے۔کوئی شخص ایسا نظر نہیں آے گا جو ڈسپوزل ماسک کو ضائع کرتے وقت اس کی ڈوریاں کاٹ کر یا توڑ کر کچرے کے ڈبے میں ڈالتا نظر آئے۔ 

ماسک سے جس طرح آلودگی پھیلنا شروع ہو گئی ہے یہ ہمارے لیے نیا مسئلہ بنتی جا رہی ہے وقتی طور پر تو ہمیں احساس نہیں ہو رہا لیکن جس طرح ڈوڑیوں کے ساتھ ماسک چاروں طرف بکھرے نظر آتے ہیں یہ ہم سب کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنے گے فل حال کوڑے کے ڈھیر جہاں سے پرندے اپنا رزق تلاش کرتے ہیں وہ بھی دانا چگتے ہوئے بری طرح متاثر ہوتے نظر آتے ہیں ڈسپوزل ماسک کی ڈوری کھانے کے دوران ان کے پائوں سے لپٹ جاتی ہے یا ان کی چونچ میں گوشت کے ٹکرے کے ساتھ پھنس جاتی ہے جیسے وہ ڈر کر اڈتے ہیں تو ماسک کی ڈوڑی ان کے پائوں سے چپٹ جاتی ہے اور یہ جانور اڑ کر دوبارہ بیٹھتے ہوئے گر کر مر جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کے اکثر لوگ بڑے ہی بے حس ہو چکے ہیں جہاں بیٹھیں گئے مجال وہاں صفائی کا خیال رکھیں چہرے سے ماسک اتاریں گے اس کو میز پر ہی چھوڑ کر چلیں جائیں گئے اس کے جراثیم کسی کو بھی لگ جائیں ان کو پروا نہیں۔اصل میں ہمیں اچھے پڑھے لکھے شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔ ماسک کو پھینکتے ہوئے اس کی ڈوری کو کاٹ دینا چاہیے اس کو سڑک پر ڈالنے کے بجائے کچہرے کے ڈبے میں ڈال دیں تو آلودگی میں اضافے کو روکا جا سکتا ہے ایک اعدادوشمار کے مطابق ایشیائی ممالک میں ماسک کا استعمال 80 کروڑ افراداستعمال کر رہے ہیں جن میں 20 کروڑ افراد ماسک کو استعمال کرکے اس کی ڈوریاں کاٹ کر اس کو کچرے کے ڈبے میں ڈال رہے ہیں جبکہ 60 کروڑ افراد اس کو چہرے سے اتار کر ایسے ہی سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں ماسک پر پلاسٹک کا معمولی حصہ لگا ہوتا ہے جو جلدی تلف نہیں ہو سکتا اس ماسک کو اگر مٹی میں بھی دبا دیا جائے تو مٹی بھی اس کو ختم نہیں کر سکتی اس کو زمین میں دفن کر دیں تو کئی سالوں کے بعد بھی ویسے ہی ملے گا۔

سڑکوں پر پھینکنے سے ایک نقصان یہ ہو رہا ہے کہ وہ پانی کے ساتھی کسی نالی کے منہ پر جا کر گندہ پانی بند کر دیتے ہیں جس سے محلوں میں نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور پانی چاروں طرف پھیل جاتا ہے ابھی ہماری پلاسٹک کے شاپر سے جان نہیں چھوٹی ایک اور آلودگی نئی قیسم وجود میں آ چکی ہے آلودگی کو ہم خود بھی ختم کر سکتے ہیں اگر اس فقرے پر غور کریں کہ صفائی نصف ایمان ہے ہمیں اس پر عمل کی ضروت ہے لیکن ہم باتیں تو کرتیں ہیں لیکن عمل نہیں ایک مقرر تقریر کر رہا تھا کہ اس کو زور سے چھینک آ گئی اس نے ایک طرف منہ کرکے چھینک ماری اور تھوک کو ٹیشو میں ڈال کر اس کو وہاں ہی پھینک دیا یہ حال ہے ہماراایسی صورت میں آپ کیا کہیں گئے ہم لوگوں کو کیا سبق دے رہے ہیں اور خود کیا کر رہے ہیں جب تک ہم اپنے آپ کو ٹھیک نہیں کریں گے سارا سسٹم اسی طرح چلتا رہے گا ہم نے اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے ماسک کو ہی آلودگی کا ذریعہ بنا دیا اپ ماسک ضرو پہنیں کیونکہ اس کے بغیر ہم کورونا کا مقابلہ نہیں کر سکتے ماسک پہننے اور اس کو استعمال کرکے اس کو ضائع کرنے کے بھی اصول اپنائیں ہمیں اپنے اصول بنانا ہونگے تب ہی ہم آلودگی سے جان بچا سکتے ہیں ہم پڑھے لکھے شہری ہیں ہم کو اس طرح جگہ جگہ ماسک پھینکنا زیب نہیں دیتا صفائی کا خیال آپ نے کرنا ہے آلودگی آپ کی کوشیشوں سے ہی ختم ہو گی۔انشا الل