فوجداری مقدمات میں ملوث ملز موں کے حوالے سے اہم فیصلہ 

lahore high court
lahore high court

 ملک اشرف :چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی زیر صدارات انتظامی کمیٹی کا اہم اجلاس،قتل سمیت سنگین مقدمات کے 6 ماہ اور عام نوعیت کے کیسز کے 18 ماہ میں فیصلے ہونگے،معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے فل کورٹ کو بھجوانے کی منظوری دے دی گئی۔

 چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی زیر صدارات انتظامی کمیٹی کا اہم اجلاس،قتل سمیت سنگین مقدمات کے 6 ماہ اور عام نوعیت کے کیسز کے 18 ماہ میں فیصلے ہونگے،معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے فل کورٹ کو بھجوانے کی منظوری دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس محمد قاسم خان کی زیر صدارت لاہور ہائیکورٹ کی فل کورٹ کا اجلاس طلب کیا جائے گا،فل کورٹ اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے تمام ججز شرکت کریں گے،چیف جسٹس  لاہورہائیکورٹ کی سربراہی میں فل کورٹ کی منظوری کے بعد معاملہ پنجاب  حکومت کو بھجوایا جائےگا۔

 حکومت کی  منظوری کے بعدماتحت عدالتوں میں فوجداری مقدمات کے فیصلے 10 سے 18 ماہ میں کرنے کاآغاز ہوگا،چیف جسٹس محمد قاسم خان کی زیر صدارت نیو ججز لائبریری میں ہونے والے انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں جسٹس محمد امیر بھٹی ، جسٹس ملک شہزاد احمد خان ، جسٹس شجاعت علی خان ،،جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس شاہد وحید اور، جسٹس علی باقر نجفی نے شرکت کی۔

 انتظامی کمیٹی کےاجلاس میں فوجداری ٹرائل بروقت مکمل کرنےکےحوالے سے کریمنل کورٹ رولز 2021 کا جائزہ لیا گیا،انتظامی کمیٹی نے 10 سال یا اس سے زائد سزا والے مقدمات میں ملوث ملز موں کا6 ماہ میں فیصلہ کرنے اور 10 سال سے کم سزا والے مقدمات میں ملوث ملز  موں کا18 ماہ میں فیصلہ کرنے کی سفارش کا جائزہ لیا گیا۔

 کریمنل  کورٹ رولز کی تیار کی گئی سفارشات کے تحت ماتحت عدالتوں میں نئے اور پرانےمقدمات کے حوالے سے الگ الگ درجہ بندی ہوگی ،ملزم اور چالان کے پیش ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے مدعی کےوکیل کو فارم اے دیا جائے گا۔مدعی کا وکیل تین روز میں فارم واپس کرکے عدالت کو شہادتیں کروانے کےوقت بارے تحریری طور  آگاہ کرےگا۔پراسیکیوشن کی جانب سے گواہوں کے بیانات قلمبند کروانے کے متعلق فارم اے واپس جمع کروایا جائے گا۔

مدعی کے وکیل کے فارم کی واپسی کے بعد ملزم کے وکیل کو فارم بی دیا جائے گا جو 2 روز میں واپس کرےگا،ٹرائل کورٹ کاجج مدعی اور ملزم کے وکلا کے فارم موصول ہونےپران کی کونسلنگ کروائےگا۔ٹرائل کورٹ کاجج وکلاء کی کونسلنگ کےبعدفوجداری مقدمہ کےفیصلے کےمہینےکااعلان کرےگا۔کیس شروع ہونے پر مدعی اور ملزم کے وکلاء دئیےگئے فارموں کے مطابق کیسز کی پیروی کریں گے۔فوجداری مقدمات کی مانیٹرنگ کے لئے ایڈمنسٹریٹو جج بھی مقرر کیے جائیں گے۔عدالت فوجداری مقدمات کے ٹرا ئل میں تاخیر کاباعث بننے والے مدعی یا ملزم پارٹی کو جرمانہ کرے گی،جرمانے کے بغیر کسی پارٹی کو تاریخ پرالتوا نہیں ملے گا۔