سیف سٹی اتھارٹی کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی

سیف سٹی اتھارٹی کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی

( عرفان ملک ) کیمروں سے مشتبہ افراد کی شناخت کیسے ہو؟؟ فیس ڈیٹیکشن والا سافٹ ویئر ہی موجود نہیں، اربوں روپے کے پراجیکٹ کے کیمرے محض عام سی سی ٹی وی کیمروں سے زیادہ کچھ نہیں۔

سابق حکومت نے سیف سٹی اتھارٹی اور ہواوے کمپنی کے درمیان کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بنانے کا معاہدہ کیا تھا جس کے لیے حکومت نے اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ بھی کی، ہواوے نے اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی مدت ختم ہونے کے بعد کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو اتھارٹی کے حوالے کرنا تھا جس کے لیے حکومت نے کام کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جس میں انکشاف ہوا کہ ہواوے کمپنی نے لاہور میں چہروں کی شناخت کا سوفٹ وئیر ہی فراہم نہ کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے ہواوے کا پردہ چاک کردیا۔ ہواوے کمپنی کے ساتھ معاہدے میں چہرے کی شناخت پر مبنی سوفٹ وئیر بھی شامل تھا، کمیٹی نے ہواوے کمپنی سے سوفٹ وئیر کی مد میں دیے گئے فنڈز واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

کیمروں میں مانیٹرنگ اور شناخت کا سافٹ ویئر نہ ہونے کی وجہ سے کیمرے صرف سی سی ٹی وی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔