پنجاب حکومت کے قرضوں میں تاریخی کمی

پنجاب حکومت کے قرضوں میں تاریخی کمی

(علی رامے) حکومت کی مستحکم مالی پالیسیز سے صوبے کو تاریخی ریلیف ملا اور جون 2019 سے جون 2020 تک کے پنجاب کے قرضوں میں تاریخی کمی سامنے آ گئی۔

 وزیراعظم عمران خان کی دورس پالیسیز ثمر آور ہونے لگیں ۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کے قرضوں میں اضافے سے متعلق الزامات کا پردہ پنجاب حکومت کی سٹیٹ بینک اور وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوائی گئی رپورٹ نے چاک کر دیا ۔عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کی مستحکم مالی پالیسیز سے صوبے کو  تاریخی ریلیف ملا، پنجاب حکومت نے ایک سال میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں کمی کرکے صوبائی وسائل پر انحصار کی نئی روایت قائم کردی۔

جون 2019 سے جون 2020 تک کے پنجاب کے قرضوں میں تاریخی کمی سامنے آ گئی ۔ پنجاب حکومت نے جون 2019میں 9 کھرب 54 ارب کی مقروض تھی، جون 2020 میں قرض کم ہو کر 9 کھرب 45 ارب ہو گیا، صوبہ پنجاب پر 9 کھرب38 ارب کے غیر ملکی اور 6.7 ارب کے ملکی قرض واجب الادا ہیں،  پنجاب کے قرضے جی ایس ڈی پی کا 4.2 فیصد اور قومی جی ڈی پی کا 2.3 فیصد ہیں، گراس سب نیشنل ڈومیسٹک پراڈکٹ میں پنجاب کے قرض کم ترین ہیں، پنجاب نے وفاقی حکومت سے کیش ڈویلپمنٹ لونز کی مد میں سب سے کم 15.19 ارب روپے حاصل کیے ہیں۔

دوسری جانب آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنجاب حکومت نے صوبے میں سرکاری گندم کی خریداری کے لئے بینکنگ سیکٹر سے ایک کھرب 14 ارب65کروڑ85لاکھ روپے قرض حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ پنجاب حکومت نےرواں مالی سال کے لئےگندم کی سرکاری خریداری کے لئے51 ارب34کروڑ80لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا تھا۔ گندم کی زائد خریداری کے فیصلے کے پیش نظر پنجاب حکومت نے اس پر نظرثانی کر کے گندم کی 45 لاکھ ٹن خریداری کے لئے بینکنگ سیکٹر سے قرضے لیے تھے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں سال قرضے کا حجم ایک کھرب8ارب96کروڑ38لاکھ95ہزار روپے کر دیا گیا تھا۔حکام کے مطابق نئے مالی سال میں گندم کی خریداری کے لیے بینکنگ سیکٹر سے مختص بجٹ سے زیادہ قرض بھی لیا جاسکتا ہے۔