لاہور کے اہم منصوبے پر طویل التواء کے بعد بڑی پیشرفت

لاہور کے اہم منصوبے پر طویل التواء کے بعد بڑی پیشرفت

(ریحان گل) لاہورکے اہم منصوبے پرطویل التواء کے بعد پیش رفت، شاہی قلعہ کے عقب سے رم مارکیٹ ختم کرنے پر نئے سیکرٹری بلدیات نے بریفنگ مانگ لی، والڈ سٹی اتھارٹی نے رم مارکیٹ کوشہر سے باہرمنتقل کرنے کی تجویز تیار کر رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے شاہی قلعہ کی بحالی اور اطراف کو بفرزون بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا، جس میں رم مارکیٹ کی شہر سے باہر منتقلی اہم جزو ہے، والڈ سٹی اتھارٹی نے کالا شاہ کاکو کے قریب نجی زمین پر رم مارکیٹ منتقل کرنے کی تجویز تیار کی تھی، مالکان نے زمین کی فراہمی کے لیے تین شرائط رکھی ہیں۔

شرائط کے مطابق مالکان کو سوسائٹی میں سے سڑک نکالنے کی اجازت دی جائے، سوسائٹی کے عقب میں ریلوے کراسنگ پر گیٹ کی تنصیب کی جائے، سرکار کی جانب سےزمین کو کمرشل کیا جائے، مالکان نےحکومت کو منافع میں سے شئیر دینے کی پیشکش کر رکھی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے تجاویز کی منظوری دے دی ہے لیکن سابقہ سیکرٹری بلدیات کی جانب سے تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، تحفظات کے باعث معاملے کو التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ قلعہ لاہور جسے   شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لاہور کی شاندار عمارتوں میں سے ایک ہے، اس کی ازسرِنو تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1556ء تا 1605ء) نے کروائی، قلعے کے اندر واقع چند مشہور مقامات میں شیش محل، عالمگیری دروازہ، نولکھا محل اور موتی مسجد شامل ہیں،   شاہی قلعہ 1100 فٹ طویل جبکہ 1115 فٹ وسیع ہے،   شاہی قلعہ کے عقب میں 106 رم کی دکانیں اور314 جوتوں کی دکانیں موجود ہیں، قلعہ لاہور دیکھنے کیلئے ہر روز ہزاروں لوگ آتے ہیں۔