ملک بھر  کی طرح لاہور میں بھی کورونا کے وار جاری

 ملک بھر  کی طرح لاہور میں بھی کورونا کے وار جاری

سٹی42: ملک بھر  کی طرح لاہور میں بھی کورونا کے وار جاری ہیں، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کےدوران شہر میں درجنوں کیسز رپورٹ ہوئے۔ عوام کی بے احتیاطی کی وجہ سے ہسپتال ایک بار پھر بھرنے لگے ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق  کورونا کی دوسری لہر بھی خطرناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے، شہر میں مسلسل کیسز بڑھ رہے ہیں، مہلک وائرس آج بھی دو افراد کی جان لے گیا جبکہ مختلف شہروں میں 183افراد زیر علاج ہیں، مہلک وبا کا شکار 78افراد آئی سی یوجاچکےہیں، 12 افراد وینٹی لیٹر پرزندگی کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں، لاہور میں کورونا کیسز  کی مجموعی تعداد  54983 اور اموات 967 ہو چکی ہیں۔

وائرس نے عدالت کا بھی رخ کر لیا ہے، 2سیشن جج ملک آصف اور سمارا جبار مرض کا شکار ہوچکے ہیں جنہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے، رخ کریں ایئرپورٹ کا تو وہاں بھی وائرس کا پھیلاؤ نظر آتا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹرسول ایوی ایشن عامرملک کورونا کا شکار بنے ہیں، تعلیمی اداروں میں بھی ریلیف نظر نہیں آتا۔

پنجاب یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر کی کورونا رپورٹ مثبت آئی ہے،پروفیسرڈاکٹر میاں سہیل قرنطینہ چلے گئے، ادھر پنجاب اسمبلی میں بھی ملازمین کا چیک اپ جاری ہے،  مزید 10 ملازمین میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اب تک اسمبلی کے 17 ملازمین میں کورونا وائرس پایا گیا ہے۔

ایک طرف کورونا تباہی مچانے کو تیار ہے تو دوسری جانب صحت کے محافظ بھی اس اہم موقع پر محاذ سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں،  جنرل ہسپتال کے ینگ ڈاکٹرز آج بھی کام پر نہ آئے ، آؤٹ ڈور میں علاج کیلئے آئے سیکڑوں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹرز کا موقف ہے کہ وہ دوسروں کی جان بچاتے ہیں مگران کی جان کا تحفظ کون کرے گا، حکومت انہیں کورونا سے بچاؤ کیلئے کٹس اور دیگر سامان نہیں دے رہی، احتجاج کے باعث او پی ڈی میں مریض درد کی دوا کیلئے کراہتے رہے، مسیحا ٹس سے مس نہ ہوئے، حکومت اور ڈاکٹرز کی لڑائی میں ایک بار پھر غریب پس رہا ہے۔