قتل کے مجرم دس سال بعد بری

قتل کے مجرم دس سال بعد بری

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے فیصل آباد کے علاقہ میں قتل کے مقدمے میں سزا پانے والے چار قیدی دس سال بعد بری کردئیے۔عدالت نے دو سزائے موت کے قیدی گل شیر،محمد فاروق اور دو عمر قید کے قیدی عثمان علی اور محمد بلال بری کر دئیے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور چودھری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا،بنچ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزائیں سنانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے، بریت کی اپیل منظور کرلی، ٹرائل کورٹ میں دو ملزموں کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ دو کو عمرقید کی سزا دی گئی تھی۔ ملزموں کے خلاف تھانہ ملت ٹائون فیصل آباد میں 4 دسمبر 2010 کو محمد علی کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج ہواتھا ۔وکیل صفائی نے کہا ہے کہ گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔

وکیل صفائی کے مطابق دونوں گواہوں کے بیانات میں کافی تضاد ہے۔انہوں نے کہا کہ مجرموں پر قتل کرنے کا جرم ثابت نہیں ہوتا سرکاری وکیل کی جانب سے مجرموں کی بریت اپیل کی مخالفت کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل کی رپورٹ کے مطابق مجرم قصوروار ہیں ۔ ٹرائل کورٹ نے گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کومدنظررکھتے مجرموں کو سزائیں سنائیں ۔