شاہدخاقان عباسی اورمفتاح اسماعیل پر فرد جرم عائد،ملزمان کا صحت جرم سے انکار

 شاہدخاقان عباسی اورمفتاح اسماعیل پر فرد جرم عائد،ملزمان کا صحت جرم سے انکار

 سٹی 42: احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس میں شاہد خاقان عباسی اور سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل پر فرد جرم عائد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے ایل این جی کیس کے ملزمان پر فردجرم عائد کی۔جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل،سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق ،آغا جان اختر اور عظمیٰ عادل  شامل ہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور  شیخ عمران الحق سمیت تمام ملزمان نےصحت جرم سے انکار کر دیا۔ احتساب عدالت نےنیب ریفرنس کی چارج شیٹ  ملزمان کے حوالے کرتے ہوئے   نیب سے آئندہ سماعت پر شہادتیں طلب کر لی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کو فرد جرم عائد ہونے کے بعد کورٹ روم سے جانے کی اجازت دے دی۔عدالت نے ملزمان حسین داؤد اور عبدالصمد داؤد پر ویڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد، دونوں ملزمان کی جانب سے علی ظفر ایڈووکیٹ احتساب عدالت میں موجود تھے، ان ملزمان نے بھی صحت جرم سے انکار کر دیا۔عبداللہ خاقان عباسی کو کوروناکے باعث گھر پر عدالتی اسٹاف کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی۔ احتساب عدالت نے ایل این جی ریفرنس میں مجموعی طور پر پانچ ملزمان پر ویڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کی،

عدالت نے تمام ملزمان کے انگوٹھے کے نشانات اور دستخط کے ساتھ شناختی کارڈ نمبرز لینے کی ہدایات بھی کی۔جج احتساب عدالت نے کہا کہ صرف ایک ملزم عامر نسیم کا انتظار کر رہے ہیں، اس کی آمد پر فرد جرم عائد ہو گی۔بعدازاں عدالت نے ایل این جی ریفرنس میں استغاثہ سے 19 نومبر کو شہادتیں طلب کر لیں۔