سانحہ پی آئی سی میں سنگین غفلت کے مرتکب لاہور پولیس کے افسران کوسزا ملے گی؟

سانحہ پی آئی سی میں سنگین غفلت کے مرتکب لاہور پولیس کے افسران کوسزا ملے گی؟

علی ساہی: پولیس افسران کیخلاف انکوائری کمیٹی کی رپورٹ حکومت کے گلے میں اٹک گئی، وکلا کی پی آئی سی حملے میں لاہور پولیس کے اعلی افسران کی سنگین غفلت رپورٹ میں سامنے آگئی، افسران کے خلاف کیا کاروائی ہوگی انکوائری رپورٹ میں واضح غفلت کے باوجود فیصلہ نہ کیا جا سکا۔

آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی جانب سے بنائی گئی تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لاہور پولیس کی غفلت کو رپورٹ کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق وکلاء کی پیش قدمی کا پولیس نے سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشنز کوآگاہ کیا، پی آئی سی کی جانب پیش قدمی کی اطلاع سپیشل برانچ سے چارمنٹ پہلے پولیس کو مل گئی تھی۔

 کورٹ سے نکلنے اور پی آئی سی پہنچنے تک ایس پی سٹی نے3مرتبہ وکلاء سےمذاکرات کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، لاہور پولیس نے وکلاء کی پیش رفت روکنے کیلئے صرف 5ریزرویں طلب کیں، ریزرویں وکلاء کے پہنچنے سےآدھا گھنٹہ پہلے پی آئی سی پہنچ چکی تھیں۔

 ایس پی ماڈل ٹاؤن عمران ملک بھی پونے 12بجے پی آئی سی کے باہرپہنچے،50 اینٹی رائٹ کے جوان پی آئی سی کےایمرجنسی گیٹ پرتعینات کئےگئے، ہسپتال میں داخلے کے دوران پولیس نے وکلاء کو کوئی روک ٹوک نہ کی، واقعہ کی روک تھام کیلئےاعلیٰ افسران نےبروقت کوئی اقدامات نہ کئے۔

 ڈی آئی جی آپریشنزایک بجکر 50 منٹ پر پی آئی سی کے باہر پہنچے، جائے وقوعہ پرپہنچنے کےباوجود ڈی آئی جی آپریشنز نے کوئی اقدامات نہ کئے، وکلاء اور ڈاکٹرز کے آمنے سامنے ہونے پر آنسو گیس اورلاٹھی چارج کیا گیا، سی سی پی اولاہور اپنےدفترمیں بیٹھے رہے اور وقوعہ پر اگلے روز پہنچے۔

 وزیراعلیٰ اور وزیر قانون سےآئی جی پنجاب کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے 2 ملاقاتیں ہوئیں، حتمی فیصلہ وزیراعظم کرینگے کہ افسران کےساتھ کیا سلوک کرنا ہے، انکوائری کمیٹی نے 3 سے4 روزقبل آئی جی پنجاب شعیب دستگیرکورپورٹ جمع کرائی۔

Shazia Bashir

Content Writer