بیسٹ کی تلاش

بیسٹ کی تلاش

اظہر تھراج| اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شادی پاکستان میں  کتنا بڑا مسئلہ بن چکا ہے،لڑکے ہیں تو ان کی عمریں ڈھلتی جارہی ہیں اور لڑکیاں ہیں تو بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندی آگئی ہے،اس کی کئی وجوہات ہیں،ایک وجہ تو معاشی مسئلہ ہے،دوسری وجہ معاشری ناہمواری یا ” بیسٹ “کی تلاش ہے۔لڑکے اور لڑکیاں ادھیڑ پن میں چلے جاتے ہیں لیکن ان کی ” بیسٹ “کی تلاش ختم نہیں ہوتی ،وہ اسی” بیسٹ “کی تلاش میں ابدی منزل پا جاتے ہیں۔

میرا ایک دوست ہے جس کی عمر تقریباً چالیس سال ہے،اس کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی ،میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی ؟ جناب فرماتے ہیں کہ ابھی تک مجھے میرے لیول کی لڑکی ہی نہیں ملی ،میں نے کہا عمر تو گزر گئی ،جناب فرماتے ہیں ”ابھی تو میں جوان ہوں،میری عمر ہی کیا ہے 30سال۔اس کے بالوں کی سفیدی کو فیشن سمجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا کیا لیول ہے؟ جناب فرماتے ہیں کہ پڑھی لکھی ہو،گوری چٹی ہو،پاک باز ،باحیا ہو،میرے حکم کی پابند رہنے والی ہو،میں شام کو صبح کہوں تو وہ ہاں میں ہاں ملائے،میں صر صر کو صبا کہوں تو اسے انکار کی ہمت نہ ہو۔میں نے جب کہا کہ آپ تو ایسے ہیں؟ آپ کا تو فلاں فلاں کے ساتھ ”چکر “ چل رہا ہے،جناب فرماتے ہیں کہ میں مرد ہوں،میری مرضی۔ادھر یہی مزاج صنف نازک کا بھی ہے۔

دوسرا مسئلہ ذات برادری کا ہے،کوئی معیاری رشتہ مل بھی جائے تو ذات برادری آڑے آجاتی ہے۔ برادری سے باہر سے رشتہ آجائے تو قومی غیرت جاگ جاتی ہے،کہا جاتا ہے کہ  سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آئندہ ایسی بات سوچنا بھی نہیں، زندہ دفن کردیں گے۔ بس ہم نے جہاں شادی طے کر دی وہیں پر ہوگی ،اگر بات نہ مانی تو تو مار کے اسی صحن میں گاڑھ ڈالیں گے۔ بیٹی آخر ہم تیرا برا کیوں چاہنے لگے بھلا۔ یہ سب ”ہٹلر “جیسے ممی ڈیڈیز کے خیالات ہیں۔

صرف بیٹی ہی نہیں بیٹوں کے بار ے میں بھی یہی نظریہ ہے،ضرورت رشتہ کو نظریہ رشتہ بنادیا جاتا ہے،پرکھوں کی زبان کو بچانے کیلئے ،چاچے،تایوں کی قبروں کو دیکھتے ہوئے اولاد کو قربانی پہ چڑھا دیا جاتا ہے،بیٹا انجینئر ہوتا ہے تو اس کی شادی ان پڑھ لڑکی سے کردی جاتی ہے،بیٹی ڈاکٹر تو اسے کسی”بابے دلہے“کی دلہن بنا دیا جاتا ہے،جیسے اولاد نہ ہو بھیڑ بکری ہو،جہاں چاہا،جیسے چاہا کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا۔ مان جائے تو دیوی نہ مانے تو چھنال۔

اگر بات بن بھی جائے تو لوگ لڑکیوں کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں،وہاں کیا دیکھتے ہیں،لڑکی چلتی کیسے ہے؟ اٹھتی ،بیٹھی کیسے ہے؟ اس کا رنگ کیسا ہے؟ ناک اور آنکھیں کیسی ہیں؟ ٹیڑھا تو نہیں دیکھتی ،بات کرتے ہوئے ہکلاتی تو نہیں۔گھر میں کیا کیا ہے؟ جہیز میں کتنا ملے گا؟ چاہے ماں باپ کا گھر بمشکل چلتا ہو لاکھوں جہیز مانگ لیا جاتا ہے،جب کھا پی کر تسلی ہوجاتی ہے تو جاتے ہوئے کہا جاتا ہے ”ہمیں آپ کی لڑکی پسند نہیں آئی “ سوچیں اس لڑکی پر کیا گذرتی ہوگی جس کو بنانے والے نے ”شاہکار“بنایا ہے۔

جب کسی لڑکی یا لڑکے کے رشتوں کے حوالے سے بار بار انکار کیا جاتا ہے تو وہ ان کیلئے روگ بن جاتا ہے،ذہنی بیماریوں ،خود کشیوں میں اضافے کی وجہ یہ رویے ہیں جو معاشرے میں تیزی سے پنپ رہے ہیں،ان کے آگے دیوار نہ کھڑی کی گئی تو یاجوج ماجوج کی قوم کی طرح انسانوں کو چاٹ جائیں گے،” لڑکی پسند نہیں آئی “کی ذہنیت سے نکل کر مناسب رویے اپنانے ہونگے وگرنہ یہی سماج ریاست، پنچایت، پولیس، کچہری میں بدلتا رہے گا۔ عورتیں ”کالی “ اور ”ونی “ کے نام پر طاقت کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔

نوٹ : تحریر میں بیان کیے گئے خیالات رائٹر کے اپنے ہیں،ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ادارہ