لاہور میں دو ہفتے کا لاک ڈاؤن؟ فیصلہ ہوگیا


( سٹی 42 ) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس، لاہور میں بڑھتے کیسز پر وزیراعظم کا اظہار تشویش، پنجاب میں دو ہفتے کا لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب بھر میں کورونا کیسز روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا لاہور میں کورونا ایس او پیز کی پابندیاں مزید سخت کرنے کا حکم جبکہ پنجاب بھر میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو احتیاطی تدابیر پر ہر صورت عملدرآمد کرنا ہوگا۔ لاہور میں بڑھتے کیسز پر وزیراعظم نے اظہار تشویش کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاہور سمیت کسی بھی ضلع کو مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا جائے گا۔ شہروں کو ٹاون کی سطح پر لاک ڈاون نہیں کیا جائے گا۔

لاہور میں بھی صرف ریڈ زون بنائے گئے علاقوں کو لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔ مارکیٹیوں کو بند کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹیوں کو بند کرنے کی بجائے ایک وارننگ مزید دینے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایوان وزیراعلیٰ میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور گورنرپنجاب چودھری محمد سرور سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم کو انسداد کورونا کےحوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ گورنر پنجاب نے کورونا بحران سے متاثرہ خاندانوں کیلئے اقدامات بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں 12 لاکھ 65 ہزار سے زائد غر یب خاندانوں کو راشن فراہم کرچکے ہیں جبکہ پنجاب ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں 60 سے زائد فلاحی تنظیمیں کورونا متاثرین کی مدد کررہی ہیں۔

گورنر پنجاب نے وزیراعظم کو بتایا کہ ڈاکٹرز کیلئے 1 لاکھ 70 ہزار پی پی ایزکٹس اور2 لاکھ 60 ہزار میڈیکل کٹس فراہم کرچکے ہیں۔ فلاحی تنظیموں، بزنس کیمونٹی سمیت دیگر افراد کی مدد سے ابتک کورونا بحران کے متاثرین کیلئے 4.5 ارب خرچ کر چکے ہیں۔ گونر نے مزید بتایا کہ صوبے کی تمام جیلوں میں 46 ہزار سے قیدیوں کو کورونا سے بچائو کیلئے حفاظتی سامان فراہم کیا ہے۔