نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کی کب سنی جائے گی؟


ملک اشرف: لاہورہائیکورٹ نے نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کی سزاوں کے خلاف درخواست سماعت کے لئے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں نیا تین رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا۔

سٹی 42 کےمطابق  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد یاورعلی کی منظوری کے بعد نیا تین رکنی فل بنچ تشکیل دیا گیا ۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل تین رکنی فل بنچ 27  اگست کو لائرز فاونڈیشن فار جسٹس کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ لائرز فاونڈیشن فار جسٹس نے نواز شریف ان کی بیٹی اور داماد کو دی گئی سزاوں کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کررکھا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو دی گی سزا کی قانونی حیثیت پہلے ہی ہائیکورٹ میں چیلنج کی گئی ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں۔۔۔پاکستان ریلوے نےعیدالاضحی پر بھی شہریوں کو عیدی دینے کا پروگرام بنا لیا 

  پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 92 کو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔پرویز مشرف نے نیب آرڈیننس جاری کرنے ہوئے احستاب عدالتیں قائم کر دیں ۔صدارتی آرڈیننس کی مدت 3 سے 6 ماہ ہوتی ہے ۔اس آرڈینینس مین توسیع نہ کی گئی ۔نیب آرڈینینس غیر موثر ہو چکا ہے ۔ آٹھارویں ترمیم کے ذریعے پرویز مشرف کے تمام اقدامات کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ۔ نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو غیر موثر نیب آرڈیننس کے تحت سزا دی گئی ۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو نیب آرڈیننس کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے۔