لاہور کے رہائشی علاقوں میں فیکٹریوں کی بھرمار، محکمہ ماحولیات کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

(عثمان خان) پابندی کے باوجود لاہور کے رہائشی علاقوں کھوکھر روڈ، بادامی باغ اور بند روڈ میں فیکٹریوں کی بھرمار، علاقہ مکین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے، سٹی 42 پر خبر نشر ہوتے ہی پنجاب اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے تحفظ ماحولیات نے فیکٹریوں کو رہائشی علاقوں سے انڈسٹریل زون میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

  یہ خبر پڑھیں۔۔۔پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 7 پٹرولیم کمپنیوں کو دو ہفتے کی ڈیڈ لائن دیدی

شہر لاہور میں پابندی کے باوجود رہائشی علاقوں میں جگہ جگہ زہریلا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کی بھرمار ہے جو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دھوئیں کے باعث شہری دمہ، سانس اور الرجی سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ زہریلے دھوئیں سے خواتین ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔

خبر ضرور پڑھیں۔۔۔وزیراعلیٰ بننے کی خواہش یا کچھ اور؟ چودھری محمد سرور نے بڑا فیصلہ کرلیا

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ فیکٹریوں کے دھوئیں کے باعث بچے بیماررہتے ہیں، کئی بار متعلقہ ادارے کو شکایات کرچکے ہیں مگرکوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

خبر پڑھنا مت بھولیں۔۔دوستی کا بھیانک انجام، لڑکے نے لڑکی کی جان لے لی

علاقہ مکینوں نے انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے گزارش کی ہے کہ فیکٹریوں کو رہائشی علاقوں سے انڈسٹریل زون میں منتقل کریں تا کہ انکی مشکلات میں کم ہوسکیں۔

سٹی42 پر خبر نشر ہوتےہی پنجاب اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے تحفظ ماحولیات حرکت میں آگئی  اور رہائشی علاقوں سے فیکٹریوں کو انڈسٹریل ایریاز میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ تحفظ ماحولیات  چوہدری آصف اقبال نے سٹی 42 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ماحول کو آلودہ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، تاحال انڈسٹری کو رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کرنے کی ہدایات نہیں ملیں ،  احکامات ملتے ہی متعلقہ محکموں کے ساتھ ملکر کارروائیاں کی جائیں گی۔