کار سوار لڑکی سے پولیس اہلکاروں کی شرمناک حرکات

کار سوار لڑکی سے پولیس اہلکاروں کی شرمناک حرکات

(ویب ڈیسک) خواتین کے ساتھ ہونے والی غیر اخلاقی حرکات، ہراسگی کے واقعات کی جڑیں معاشرے میں مصبوط ہورہی ہیں جس کی اہم وجہ ملزموں کے خلاف محض کاعذی کارروائی اور پھر باعزت بری کردیا جاتا ہے، اب قانون کے محافظ ہی خواتین کی آبروریزی کرنے لگے ہیں،فیصل آباد میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔

تفصیلات کےمطابق معاشرے میں خواتین کے ساتھ زیادتی، ڈکیتی اور قتل ایسی وارداتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہا ہے،پنجاب کے صنعتی شہر فیصل میں قانون کے رکھوالے ہی خواتین کی عزتیں پامال کرنے لگے،فیصل آباد کے علاقے کنال روڈ پر  تلاشی کے بہانے گاڑی میں سوار لڑکے اور لڑکی کو روک کر لڑکی سے بدسلوکی اور  نازیبا حرکتیں کرنے کے الزام میں 3 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق کار میں سوار لڑکے  کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، لڑکے نے  ایف آئی آر درج کراتے بتایا کہ وہ اپنی کزن کے ساتھ شادی کی تقریب سے واپس گھر جا رہا تھا کہ راستے میں پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو تلاشی کے بہانے روکا۔ 

 پولیس اہلکاروں نے 2 گھنٹے تک روکے رکھا اور ایک پولیس اہلکار نے اس کی کزن کے ساتھ نازیبا حرکات بھی کیں،واقعے میں ملوث تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیاہے۔ 

دوسری جانب پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال 26 اگست تک صوبائی دارالحکومت میں خواتین سے زیادتی کے پچاس فیصد مقامات جھوٹے نکلے ہیں۔ رواں سال شہر کے تھانوں میں 368 مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں درج مقدمات میں سے 113 کیسز زیر سماعت ہیں۔ پولیس نے 86 مقدمات کے چالان مکمل کرکے عدالتوں میں جمع کروا دیئے۔

عدم پیروی، صلح اور تفتیش کی بنیاد پر 101 مقدمات کو خارج کر دیا گیا، اسی طرح درج مقدمات میں سے 42 خواتین نے اپنا میڈیکل ہی نہ کرایا جبکہ بے گناہ 61 افراد کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق نامعلوم  72 ملزموں کو پولیس تاحال گرفتار نہ کرسکی جبکہ 14 ملزموں کو اشتہاری قرار دیا گیا۔