وفاقی بجٹ سے مہنگائی کا سونامی آئیگا،تاجر برادری نے مسترد کردیا


(شہزاد خان، حسن علی، فاران یامین) لاہور کی تاجر برادری نے پی ٹی آئی حکومت کے پہلے وفاقی بجٹ کو مسترد کردیا، تاجر برادری نے بجٹ کو ہندسوں کا گورکھ دھندہ قرار دیتے ہوئے اسے غریب دشمن، تاجر دشمن اور صنعت دشمن قرار دے دیا۔

آل پاکستان انجمن تاجران، فیڈریشن چیمبر آف کامرس، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا، اس حوالے سے صدر آل پاکستان انجمن تاجران خالد پرویز اور عرفان شیخ کا کہنا تھاکہ آئل، گھی، چینی، خشک دودھ، سیمنٹ، گاڑیوں، زیورات، کولڈ ڈرنکس سمیت دیگر اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز میں اضافہ کرکے عوام اور تاجروں کے لئے جینا محال کردیا گیا ہے، ٹیکسز سے عام آدمی کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگا، غریب آدمی پہلے ہی جسم اور روح کا رشتہ برقرار نہیں رکھ پارہا تھا کہ اب مزید مہنگائی کا بم گرادیا گیا ہے۔

بجٹ تقریر سننے کے بعد فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریجنل چیئرمین عبدالرﺅف مختار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ نہ تو عوام دوست ہے اور نہ ہی صنعتکار دوست، ایف پی سی سی آئی کی جانب سے حکومت کو جو بجٹ تجاویز دی گئی تھیں، اُن پر بھی حکومت نے عمل نہیں کیا، مہنگائی پہلے ہی آسمان سے باتیں کررہی تھی، بجٹ سے مہنگائی کا سونامی آئے گا۔

ایف پی سی سی آئی کی نائب صدر شیریں ارشد خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی تجویز پیش نہیں کی، دوسری طرف لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجٹ کو متوازن قرار دیدیا، صدر سید الماس حیدر نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے صنعتوں کے خام مال کی 16 سو اقسام کے ٹیکس کو زیرو ریٹیڈ کرنے، ڈیمز کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے، فصلوں کی انشورنس اور پرائیوٹائزیشن کے عمل کو سراہا۔