شوگر سبسڈی بلین ٹری منصوبے کی تحقیقات شروع

شوگر سبسڈی بلین ٹری منصوبے کی تحقیقات شروع

(مانیٹرنگ ڈیسک ) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ نے سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوا میں کرپشن کی انویسٹی گیشنز اور شوگر سبسڈی اسکینڈل کی انکوائری کی منظوری دے دی۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا۔ جس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل، ڈی جی آپریشن سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر عاصم مرتضٰی خان اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر میسرز مورانوفتو ڈولے کو تیل و گیس کی تلاش کے ٹھیکے میں بدعنوانی کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

اجلاس میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوا میں کرپشن کے علاوہ ٹیکسٹ بورڈ خیبر پختونخوا کے افسران اور محکمہ تعلیم و خواندگی سندھ کے افسران کے خلاف انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی،ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں (12) انکوائریز کی بھی منظوری دی گئی، جن میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ خیبر پختونخوا میں 6 الگ الگ انکوائریز، شوگر سبسڈی اسکینڈل میں شوگر ملز کی انتظامیہ اور دیگر، عبدالرحیم خان، ظہور احمد، عظمت علی شاہ اور حمزہ خان، عرش الرحمان، ایڈیشنل کنٹرولر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان اور دیگر،بنوں شوگر ملز لمیٹڈ کے افسران /اہلکاران،آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ کے افسران /اہلکاران اور دیگر،سردار خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،برہان خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران ہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔

نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے، نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے، نیب قانون کے مطابق بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی دولت بر آمد کرنے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لارہا ہے۔

جاوید اقبال نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانون کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔