یکم سے 10 مئی تک ملک بھر میں لوڈشیڈنگ صفر رہی؛ وزیر توانائی

یکم سے 10 مئی تک ملک بھر میں لوڈشیڈنگ صفر رہی؛ وزیر توانائی
کیپشن: Khurram Dastgir
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) وزیر توانائی خرم دستگیر نے ملک میں لوڈشیڈنگ صفر ہونے کا دعویٰ کردیا، کہا  کہ شعبہ توانائی بھی عذاب عمرانی سے شدید متاثر ہوا،سابقہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بجلی کے کئی کارخانے بند ہوئے، لوڈشیڈنگ کم کرنے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں،وزیراعظم نے نئی توانائی پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 31مئی2018 کو جب اپنی مدت مکمل کی تو لوڈشیڈنگ صفر تھی، مجھے 26اپریل کو وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جب وزارت سنبھالی تو7 ہزار سے زائد میگاواٹ کے پلانٹ بند تھے، وزیراعظم نےعوام سے وعدہ کیا تھا کہ لوڈشیڈنگ ختم کردینگے، آج اللہ کےکرم سےبجلی پیداوار 22ہزار634میگاواٹ ہے اور آج پورے ملک میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ہے۔

کہاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ روکنے کرنے کیلئے اضافی وسائل درکار ہونگے، اس حوالے سے وزیراعظم اور کابینہ سے درخواست کی ہے، بلاک سکس میں 1320 میگاواٹ پلانٹ نالائقی کی وجہ سے بند پڑا تھا، اسے بھی بہت جلد فعال کرنے جارہے ہیں، یہ بہت بڑاچیلنج ہے ہم اس سے نمٹیں گے، وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ جو وسائل چاہئیں وہ دیے جائیں گے۔

صوبوں میں دیہی علاقوں سے شکایات مل رہی تھیں، ایندھن کے ذریعے ہمیں بجلی کی پیداوار بڑھانا ہوگی، کوئلہ سب سےسستی بجلی فراہم کررہا تھا اب وہ بھی مہنگا ہوگیا ہے۔  آگےبڑھنے کا یہی طریقہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سولر لگائے جائیں، تھرکول کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے، تھرکول میں اس وقت بجلی بن رہی ہے، بہت جلد سارے پلانٹس کی پروڈکشن شروع ہوجائے گی۔

چار سال کاعذاب عمرانی ملک پرمسلط رہا، وزیراعظم شہباز شریف جمہوری حکومت کی قیادت کررہے ہیں، آئین کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائز کے پابند ہیں، آئین میں راستے کا تعین واضح ہے، آئین کی شق چوہدری سرور کے معاملے میں ٹھیک مگر اب ٹھیک نہیں؟

ایک جانب وفاقی وزیر توانائی نے ملک بھر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا دعویٰ کیا ہے دوسری جانب اس دعوے کے برعکس شہر قائد کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا کر 9 سے 14 گھنٹے تک کردیا گیا ہے۔