چیف جسٹس پاکستان کو نو منتخب سینیٹرز پر رحم آہی گیا


ملک اشرف:  مسلم لیگ نواز کے پہلے سے 18 اراکین موجود ہیں اور نئے اراکین کی شمولیت کے بعد سینیٹ میں مسلم لیگ نواز کی مجموعی تعداد 33ہو گئی ہے،ان انتخابات سے قبل سینٹ کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ دوسری نمبر پر چلی گئی ہے تاہم وہ اعدادوشمار کے برعکس کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔اس کے پرانے اراکین کی تعداد آٹھ تھی اور اب 12 نئے امیدوار کی جیت کے بعد سینیٹ میں ان کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے-جب سے سینیٹ الیکشن ہوئے ہیں ملکی سیاست میں گہما گہمی مچی ہوئی ہے،ان انتخابات میں جس میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ15 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سینیٹروں کی دہری شہریت ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی،سماعت کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ وہ 2013 میں برطانوی شہریت چھوڑ چکے ہیں،اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ شہریت مکمل طورپر چھوڑی یا عارضی طور پر؟چوہدری سرورکے وکیل نے بتایا کہ برطانوی قانون کےمطابق شہریت دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:میرا قصور بتایا جائے، مجھے کیوں بلایا؟ بلال قدوائی کی عدالت میں دہائی
 
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے آپ نے گورنر بننے کے لیے عارضی طور پر برطانوی شہریت ترک کی، آپ نے یہاں سیاست کرنی تھی اور اسٹیٹس انجوائے کرکے وقت پورا ہونے پر دوبارہ جا کر شہریت بحال کروانی تھی۔
جسٹس ثاقب نثار نے چوہدری سرور کو ہدایت دی کہ بیان حلفی دیں کہ آپ اب کبھی بھی دوبارہ برطانوی شہریت بحال نہیں کروائیں گے، اگر آپ نے دوبارہ برطانوی شہریت بحال کروائی تو یہ نااہلی بنتی ہے۔

پڑھنا نا بھولیں:امام کعبہ نے نواز شریف کی دعوت ٹھکرا دی
 
دوران سماعت عدالت نے کہا کہ دہری شہریت کا معاملہ آئینی ہے، شہریت مستقبل یا عارضی طورپر چھوڑی جاتی ہے اس پر سماعت کی جائے گی،چیف جسٹس پاکستان نے اپنی سربراہی میں کیس کی سماعت کے لیے 7 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا اور ساتھ ہی دہری شہریت کیس میں چوہدری سرور، ہارون اختر، سعدیہ عباسی اور نزہت صادق کی کامیابی کے روکے گئے نوٹی فکیشن بھی جاری کرنے کا حکم دیا۔

ضرور پڑھیں:آپ ٹینشن میں لگتے ہیں، چیف جسٹس اور اعتزاز احسن میں دلچسپ مکالمہ بازی
 
کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے دہری شہریت کیس میں چار نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کا روکا گیا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نےسینیٹروں کی دہری شہریت کے کیس میں چار نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا۔