لاہور ہائیکورٹ میں کلینکس سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت


ملک اشرف :سپریم کورٹ کے حکم پر اطائیوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ، لاہورکورٹ نے کلینک ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت کے ریمارکس دیا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

جسٹس شمس محمود مرزا نے ڈاکٹر زاہد محمود سمیت دیگر ہو میو پیتھک ڈاکڑزکی درخواست پر سماعت کی۔ چیف آپریٹنگ آفیسر ہیلتھ کئیر کمشن ڈاکٹر اجمل خان عدالت پیش ہوئے۔ درخواستگزاروں نے موقف اختیار کیا کہ کورسز کرنے کے بعد ہو میو پیتھک کلینک چلارہے ہیں۔عطائی ڈاکٹرز کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس کے باوجود ہیلتھ کئیر کمشن نے کلینک سیل کردئے۔

اس خبر کو لازمی پڑھیں:بلاول بھٹو، آصف زرداری کے خلاف نااہلی کی درخواست مسترد

محکمہ صحت کے قانونی تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔ درخواستیں دینے کے باوجود ہیلتھ کئیر کمشن ان کے کلینکس ڈی سیل نہیں کر رہا۔ درخواستگزاروں نے استدعا کی کہ عدالت ہیلتھ کئیر کمشن کو کلینک ڈی سیل کرنے کا حکم دے۔ چیف آپریٹنگ آفیسر ہیلتھ کئیر کمشن ڈاکٹر اجمل خان نے عدالت کو بتایا کہ درخواستگزار مستند ڈاکٹر نہیں۔ عطائی ہونے پر ان کے کلینک سیل کئیے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 15 نومبر 2018  

چیف آپریٹنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عطائیوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواست نمٹاتے ہوئے درخواستگزاروں کو ہیلتھ کئیر کمشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کی اور عدالت کا ہیلتھ کئیر کمشن کو بھی حکم دیا کہ وہ درخواست گزاروں کو سن کر دو ہفتوں میں فیصلہ کرے۔