حکومت نے فلم انڈسٹری کو لاوارث چھوڑ دیا: ماہ نور

حکومت نے فلم انڈسٹری کو لاوارث چھوڑ دیا: ماہ نور

مال روڈ (زین مدنی) سٹیج ٹی وی اور فلم کی نامور اداکارہ ماہ نور نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے نئے سرمایہ کاروں کے ساتھ حکومتی سرپرستی بھی ضروری ہے، جب تک سرکاری سطح پر فلم انڈسٹری کی سرپرستی نہیں کی جائے گی اس وقت تک انڈسٹری میں بحران برقرار رہے گا۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف انڈسٹریز کی ترقی کے لئے کام کر رہی ہے مگر فلم اور تھیٹر انڈسٹری کو لاوارث اور یتیم چھوڑ دیا ہے، ہماری فلمیں دنیا بھر میں ہماری ثقافت کی پہچان ہیں، بدقسمتی سے پچھلی دو دہائیوں سے فلم انڈسٹری کی کشتی ڈوب رہی ہے اور حکومت نے اس جانب سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

ماہ نور نے بتایا کہ پاکستانی سٹیج ڈرامے آج بھی پوری دنیا میں مداح بڑے شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ بھارت میں پاکستانی سٹیج ڈراموں سے ہی وہ ٹی وی شوز کررہے ہیں اور وہ بے پناہ مقبول ہیں لیکن ہمارے ہاں یہاں تھیٹر کولاوارث کردیا ہے، چار ماہ سے کورونا وائرس کے پیش نظر تھیٹرز بند ہیں لیکن کسی بھی حکومتی نمائندے یا حکومتی وزیر نے تھیٹر فنکاروں کا حال تک نہیں پوچھا کہ وہ کس حال میں ہیں۔

ماہ نور نے بتایا کہ اس وقت نوبت یہ ہے کہ تھیٹر سے وابستہ جونیئر فنکار تکنیک کارفاقوں تک آگئے ہیں ان کی چار ماہ میں جو مشکلات درپیش ہوئی ہیں وہ یا تو وہ جانتے ہیں یا ان کے گھر والے جانتے ہیں، ماہ نور نے حکومت پنجاب سے اپیل کی کہ پنجاب کے تھیٹرز کے فنکاروں کے مسائل کے حل کے ساتھ انہیں امداد بھی دی جائے۔

دوسری جانب  شہر لاہور کے سینما گھرعیدالاضحی پر بھی بندہی رہیں گے، عید پر نئی پاکستانی فلمیں ڈسٹری بیوٹرز نے ریلیز کرنے سے انکار کردیا، شائقین سینما کے لئے بری خبریہ ہے کہ عید قرباں پر بھی سینما گھروں کی رونقیں بحال نہیں ہوں گی بلکہ سینما گھر بند ہی رہیں گے۔

پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظرعید قرباں پر بھی بزنس نہ ہونے کے خدشات کے باعث نئی پاکستانی فلمیں ریلیز کرنے سے انکار کردیا ہے۔

عید کے لئے چار نئی فلمیں دی لیجنڈ آف مولا جٹ، ٹچ بٹن، لفنگے، دل کہے جدھر تیار ہیں، لیکن بزنس نہ ہونے کے خدشات کی وجہ سے فلمیں ریلیز نہیں ہوں گی جبکہ سینما گھروں کی انتظامیہ بھی اس پر مایوس ہے۔ سینما انڈسٹری کورونا وائرس کی وجہ سے پچھلے چار ماہ سے بند ہے اور فلمی حلقوں کے مطابق اگر دس سے پندرہ فلمیں ہوں تو سینما گھر اب دوبارہ سے کھلنے چاہئیں کیونکہ یہ حالات مقابلہ بازی کے بھی نہیں ہیں۔