غیر معیاری اشیاء کی فروخت کیخلاف سماعت، ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو شاباش

غیر معیاری اشیاء کی فروخت کیخلاف سماعت، ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو شاباش

 ( ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ کی ڈی جی فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمد عثمان کی کارکردگی کی تعریف، ڈی جی فوڈ کو غیرمعیاری اشیاء کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت، واسا کے فلٹریشن پلانٹس کے پانی کا معیار چیک کرنے کا ہدف بھی دے دیا گیا۔

لاہورہائیکورٹ میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافے اور غیر معیاری اشیاء کی فراہمی کے خلاف جسٹس مامون رشید شیخ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر) محمدعثمان نےعدالت میں غیرمعیاری اشیاء کے خلاف کارروائی کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائی، عدالت کے استفسار پرکیپٹن (ر) محمدعثمان نے بتایا کہ 2011 میں لاہور سے فوڈ اتھارٹی کا آغاز ہوا اور اب اس کا دائرہ اختیار پورے پنجاب تک بڑھا دیا گیا ہے۔ شہریوں کو محفوظ خوراک کی فراہمی کے لئے موثر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو معیاری خوراک کی فراہمی ان کا مقصد اور غیرمعیاری اشیاء فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف کارروائی کی۔ کیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا کہ انہیں ہمشہ عدالتوں کی سپورٹ حاصل رہی، عدالت کےاستفسار پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی بولے اشیاء کے معیار کو چیک کرنے کے لیے ایس او پی بنا رکھا ہے۔ چیکنگ کے لئے سمپلنگ اور انسپکشن کا طریقہ کار واضح کیے گئے ہیں، روزانہ سرپرائز وزٹ اور آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کو آگاہی بھی دیتےہیں۔

عدالت نے فوڈ اتھارٹی کےاچھے کام کی تعریف کی اور کہا کہ کارروائی کی میڈیا کوریج کے ذریعے کسی کردار کشی نہیں ہونی چاہیے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ ان کا کام کسی کے کاروبار کو متاثرکرنا نہیں بلکہ قانون کے دائرہ میں لانا ہے، قانونی طریقہ کار کےتحت ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

عدالت نےڈی جی فوڈ اتھارٹی سے استفسار کیا کہ لاہور میں پانی کے نمونوں کو کون چیک کررہا ہے۔ ڈی جی فوڈ بولے واٹر فلٹریشن سے نمونے کی چیکنگ کا اختیار پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ واٹر فلٹریشن تو کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے، واسا کے نلوں میں آنے والے پانی کا حال سب کو پتہ ہے۔

عدالت نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو ہدایت کی وہ واسا کے واٹرفلٹریشن پلانٹس کے پانی کے معیار کو چیک کرکے رپورٹ پیش کریں۔