فراڈیوں کے نئے انداز انعام کے لالچ میں شہری ہوگئے شکار


(عرفان ملک) حکومت کی کارکردگی پر ایک اور سوالیہ نشان لگ گیا، شہریوں کو لوٹنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا، شہری اپنے ہاتھوں سے اپنی کمائی کو فضول اور غیر ضروری سکیموں پر صرف کرنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق شہر میں لوٹ، مار اور دوسری طرف مہنگائی سے شہری پریشان ہوکر رہ گئے ہیں،مہنگائی کے اس دور میں عوام کو لٹنے کا ایک اور طریقہ واردات سامنے آیا ہے جس سے سادہ لوح افراد اپنی جمع پونچی کو صرف کررہے ہیں، جس کے بعد ہاتھ کچھ نہیں آتا، دورجدید میں موبائل فونز کے استعمال کا رجحان بڑھ گیا ہے،کاروباری افراد ہو یاکوئی بھکاری ہر ایک کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے، جیسے زندہ رہنے کے لئےخوراک کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح موبائل فونز کاعمل دخل ہماری زندگیوں داخل ہوچکا ہے۔

مگر اس کے استعمال میں بہت سے احتتاط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض اوقات ایسی ایسی انعامی سکیوں سےکالز یا میسیجز آتے ہیں جو موبائل صارفین سےان کے بینگنگ اکاؤنٹس کی تفصیلات کی تحقیقات کرتے ہوئے لالچ دیتی ہیں کہ آپ اتنی رقم صرف کریں تو آپ کو 5تولےسونا اور بیش قمیتی انعامات سے ملیں گے۔

غیر قانی سمز کی مدد سے لوٹ مار کے رجحان میں اضافہ ہوگیا ہے، سائبر کرائم ونگ میں درخواستوں کی بھر مار ہے، بینگنگ اور دیگر انعامی سکیوں کی ہزاروں کی تعداد میں انکوئریاں التواء کا شکار ہیں،سائبر کرائم ونگ سیل میں 13ماہ میں2ہزار736 درخواستیں فائلوں کی نذر ہوگئیں ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہناتھا کہ موبائل فونز سمز کی مدد سے روزانہ کی بنیاد پر انعامی فراڈ کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، موبائل فونز سمز کی مدد سے زیادہ تر فیک ہوتی ہیں، سمز جعلسازی سے بائیومیٹرک کے بعد نکلوائی جاتی ہیں، حکومت کی طرف سے یہ احکامات صادر کئے گئے تھے کہ

غیر قانونی سمز کو بلاک کیا جائے اور بائیومیٹرک سے تصدیق شدہ سمز کا چلایا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے فراڈ کوروکا جائے۔

اس کے باوجودمختلف ادارے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہے،انعامی فراڈ کیسز کا لالچ دینے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے،جس سے لاکھوں روپے بٹورے گئے، ایف آئی اے حکام ان احکامات پر عمل نہیں کررہے اور نہ درخواستوں کا ازالہ کیا جارہا ہے، ایف آئی اے کا کہناتھا کہ ان میں سے متعدد سمز فیک تھیں، ایسی ہزاروں سمیں اس گھناؤنے کاروبار میں سرگرم ہیں جو شہریوں کو لالچ دے کر لوٹ رہے ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہناتھا کہ اس حوالے سے پی ٹی اے حکام کو بھی باہا لکھا گیا کہ ایسی غیر قانی سیمز کے خلاف کارروائی کی جائے،لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اسی وجہ سے فراڈ میں اضافہ ہورہا ہے، ایف آئی اے میں 13ماہ میں2ہزار736 درخواستیں آچکی ہیں جن پر کوئی موثر کام نہیں ہورہا۔