وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نئی مشکل میں پھنس گئے


(ملک اشرف) وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں پہلی توہین عدالت کی درخواست دائر، عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے 24 ستمبر کو جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے جاوید اختر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور سیکرٹری پراسیکیوشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میرٹ پر پورا اترنے کے باوجود اسے ترقی نہیں دی گئی۔سیکرٹری پراسیکویشن کو بھی درخواست دی لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل کے مطابق شنوائی نہ ہونے پر اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو فریقین کو سن کر درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وزیراعلیٰ نے عدالتی حکم کی تعمیل نہیں کی۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری پراسیکویشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 15 نومبر 2018  

سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں، سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی جائے۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعلی پنجاب سے ہدایات لے کر 24 ستمبر کو جواب دے۔