برصغیر کی قدیم علاج گاہ نجکاری کی بھینٹ چڑھ گئی

زاہد چوہدری: تبدیلی سرکار کا کارنامہ، برصغیر کی قدیم علاجگاہ اور طبی درسگاہ کو نجکاری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ میو ہسپتال اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پر ایم ٹی آئی ایکٹ کا باضابطہ نفاذ،سرکاری عمل دخل ختم، پرائیویٹ افراد پرمشتمل بورڈ انتظامی اور مالی امور سر انجام دے گا۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کی جانب سے میو ہسپتال اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پر میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد اب میو ہسپتال اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں سرکاری عمل دخل مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

دونوں ادارے اب پرائیویٹ سیکٹر سے نامزد ہونے والے افراد کے ذریعے چلائے جائیں گے۔ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت پرائیویٹ افراد پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کو میو ہسپتال اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے تمام انتظامی اور مالی امور سر انجام دینے کا مکمل اختیارات حاصل ہونگے۔ 

دوسری جانب ٹیچنگ ہسپتالوں اور طبی اداروں کے بورڈ آف مینجمنٹ کی تشکیل مکمل کرلی گئی ہے۔حکومت نےبورڈ آف مینجمنٹ کی خالی سیٹوں پر نئی نامزدگیاں کی ہیں۔ شاہیمہ رحمان کو آئی پی ایچ کے بورڈ آف مینجمنٹ کا رکن نامزد کر دیا گیا ہے۔ چلڈرن ہسپتال ملتان کے لیے ڈاکٹر فوزیہ ظفر، ڈاکٹر ظفر اقبال علوی ، کیپٹن (ر) سید محمد علی گردیزی، فدیہ کاشف، جاوید اقبال وڑائچ اور حسین احمد فضل کو نامزد کیا گیا ہے۔

ساہیوال میڈیکل کالج و ہسپتال کے لیے پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق، ڈاکٹر خاور سعید ، سعادت منیر، ڈاکٹر سلیم فاروق شوکت، نبیلہ خان اور عبدالرشید کو نامزد کیا گیا ہے۔ فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے ڈاکٹر طفیل محمد، ڈاکٹر عمارہ سلیم، شمیم کوثر رانا، خواجہ عاصم خورشید، اکرم خاکسار اور محمد یعقوب جبکہ ڈی جی خان میڈیکل کالج و ہسپتال کے لیے پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد بلوچ، ڈاکٹر محمودہ نسرین، اعجاز بدر،سردار عباس علی خان، رقیہ رمضان اور محمد عثمان بورڈ ارکان نامزد کئے گئے ہیں۔