پنجاب کوآپریٹو لیکوڈیشن بورڈ کے پاس اربوں کی اراضی کا معاملہ لٹک گیا

 پنجاب کوآپریٹو لیکوڈیشن بورڈ کے پاس اربوں کی اراضی کا معاملہ لٹک گیا

سٹی42: پنجاب کوآپریٹو لیکوڈیشن بورڈ کے پاس اربوں کی اراضی کا معاملہ لٹک گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے لیکوڈیشن اراضی پر عدالتی کیسز کو فوری حل کروانے کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے کمیٹی بنائے جانے کے باوجود عملی اقدامات نہ ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ برس نومبر کے پہلے ہفتہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں سرکاری اراضی کو فلاحی مقاصد کے لیے بروئے کار لانے بالخصوص پنجاب کوآپریٹو بورڈ فار لیکوڈیشن کے زیر انتظام املاک کو عوامی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیر برائے کوآپریٹیو مہر محمد اسلم بھروانہ، وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیرِاعظم کو صوبہ پنجاب میں سرکاری املاک کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

چیئرپرسن پنجاب کوآپریٹیو بورڈ برائے لیکوڈیشن (پی سی بی ایل) بشریٰ امان نے ادارے کے ملکیت میں مختلف املاک کے بارے میں وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ پی سی بی ایل کی ملکیت میں 293 املاک ہیں جن میں سے زرعی، کمرشل اور رہائشی جائیدادوں پر مشتمل 98 املاک نیلامی کے لیے فوری طور پر میسر ہیں۔ ان کی مالیت کھربوں روپے ہے۔ بقیہ املاک سے متعلق مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ نئی انتظامیہ نے گذشتہ 6 ماہ میں اربوں روپے کی املاک کو ناجائز قبضے سے واگزار کرایا۔

اس موقع پر وزیرِاعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حکومت بطور پالیسی سرکاری املاک (ڈیڈ ایسٹ) کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے اور ان سے ہونے والی آمدن کو معاشی عمل تیز کرنے اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صرف کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم نے پی سی بی ایل انتظامیہ اور وزیرِ قانون پنجاب کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ ادارے کی املاک سے متعلقہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے کوششیں تیز کی جائیں اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

بعد ازاں 20 نومبر کو صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں پنجاب کوآپریٹوزلیکوڈیشن بورڈ کا اجلاس رکھا گیا جس میں صوبائی وزیر کوآپریٹومحمد اسلم بھروانہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سرداراعجازاحمد، سیکرٹری قانون، سیکرٹری کوآپریٹو، چیئرپرسن و سیکرٹری لیکوڈیشن بورڈ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

اس دوسرے اہم ترین اجلاس میں بورڈ کی املاک اوردیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیرقانون کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی واضح ہدایات ہیں سرکاری زمینوں کو ناجائز قابضین سے فوری واگزار کرا کے مفاد عامہ کے استعمال میں لائی جائیں۔ عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی مؤثر پیروی کر کے جلد فیصلے کرائے جائیں۔

محمد راجہ بشارت نے کہا کہ کوآپریٹو کی جائیدادوں پر ناجائز قبضے واگزار کرانے کیلیے پنجاب پولیس ہر ممکن معاونت فراہم کرے جبکہ مقدمات اور ناجائز قبضوں سے پاک 99 جائیدادوں کی شفاف نیلامی کے لیے فوری طور پر کارروائی شروع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ و عالیہ اور ضلعی عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کے لیے الگ الگ لیگل ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔

اس کے بعد 9 اکتوبر کو پنجاب حکومت نے اہم اقدام کرتے ہوئے صوبہ بھر میں سرکاری زمینوں کے آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی کے سربراہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت مقرر کیے گئے، کمیٹی کے نائب سربراہ صوبائی وزیرمال جبکہ ممبر کالونیز کمیٹی کے رکن اورسیکریٹری تھے۔ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری قانون اور ڈی جی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل تھے۔

کمیٹی سے متعلق جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی ہر ضلع میں زرعی، سکنی اور کمرشل اراضی کا آڈٹ کرے گی، کمیٹی صوبہ بھر میں الاٹ شدہ، لیز، تجاوزات شدہ اراضی، اس کی سالانہ آمدن اور بقایا جات کے کوائف اکٹھے کرے گی۔ جب کہ کمیٹی ایک ماہ کے اندر تمام امور پر مبنی تفصیلی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کرنے کی پابند ہو گی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے لیکوڈیشن اراضی پر عدالتی کیسز کو فوری حل کروانے کے احکامات پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے کمیٹی بنائے جانے والی کمیٹیوں کے کچھ ثمرات آ سکے ہیں۔