سورج گرہن کےعام انسانوں اور حاملہ خواتین پر کیا اثرات ہوتے؟

Solar eclipse
Solar eclipse

(مانیٹرنگ ڈیسک) سال 2021ء کا آخری سورج  گرہن لگ گیا، سورج گرہن کیا ہے اور اس کے انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ ماہرین نے بتادیا۔ 

  ماہرین فلکیات کے مطابق سال 2021 کا آخری سورج گرہن لگ گیا تاہم یہ پاکستان میں نظر نہیں آئےگا، سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجکر 29 منٹ پر ہوااور سورج کو مکمل گرہن 12 بجے لگے گا جبکہ اس کا اختتام 2 بج کر 37 منٹ پر ہوگا، سورج گرہن پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا۔

  ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج گرہن جنوبی افریقہ ، جنوبی آسٹریلیا ، جنوبی امریکہ ، بحیرہ اوقیانوس ، بحر الکاہل ، انٹار کٹیکا اور بحیرہ ہند کے علاقوں میں دیکھا جا سکے گا، سورج گرہن بحیرہ اوقیانوس ، بحر الکاہل ، انٹارکتٹیکا ، بحیرہ ہند  میں بھی نظر آئے گا۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہےکہ  زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے، اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے،چاند کے سورج اور زمین کے درمیان آجانے کا عمل سورج گرہن کہلاتا ہے۔

  ماہرین کے مطابق سورج گرہن انسانی جسم خصوصی طور پر آنکھوں کے لئے مضر ثابت ہو سکتا ہے، سورج گرہن کے موقع پر تھوڑی سی لاپرواہی انسان کو بینائی سے مکمل محروم کر سکتی ہے، یہ صرف حاملہ خواتین کے لئے ہی نہیں بلکہ باقی افراد کے لئے بھی ضروری ہے۔

بعض اطباء کہتے ہیں کہ سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت نہ کھلی فضا میں نکلے، نہ آسمان کی طرف دیکھے، نہ تیز دھارے والا آلہ استعمال کرے اور نہ آگ کے پاس جائے کہ اس سے حمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

کچھ لوگوں کا  عقیدہ ہے کہ سورج گرہن کے دوران ذہنی معذور بچوں کو کھلے میدان میں مٹی میں دبانے سے ان کی ذہنی معذوری ٹھیک ہوجاتی ہے۔

علمائے کرام کا کہنا ہےکہ چاند گرہن اور سورج گرہن کی وجہ سے عام انسانوں یا حاملہ خواتین پر مختلف قسم کے اثرات پڑنے سے متعلق جتنے بھی من گھڑت وہم اور وسوسے عوام میں مشہور ہیں ان کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے، وہ صرف اور صرف لوگوں کی پھیلائی ہوئی من گھڑت باتیں ہیں، ایمان والوں کو اس قسم کے توہمات پر یقین کرنے کے بجائے خود احتسابی اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے اس کے علاوہ نماز کسوف کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ بلاضرورت گھر وں سے باہر نکلنے سے   گریز کریں، اگر باہر نکلیں تو آنکھوں پر یو وی چشمہ اور جسم کو ڈھانپ لیں تاکہ سورج کی شعاعوں سے محفوظ رہیں۔