نابینا افراد کے لیے بڑی ایجاد سامنے آگئی

نابینا افراد کے لیے بڑی ایجاد سامنے آگئی

(سٹی 42): اب آنکھوں کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا۔ سائنسدانوں نے دن رات محنت کے بعد ایسی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جس کے ذریعے نابینا افراد کی بینائی بحال کی جاسکے گی۔

تفصیلات کے مطابق سائنسدان ایک ایسے طریقہ علاج کے ذریعے بینائی بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس میں دیکھنے کیلئے آنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ نیدرلینڈز انسٹی ٹیوٹ فار نیورو سائنس (این آئی این) میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے محنت کے بعد ایسی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جس کے ذریعے نابینا افراد کی بینائی بحال کی جاسکے گی۔ یہ خیال تو سائنسدانوں کو آگیا تھا کہ دماغ کو برقی طریقے سے متحرک کرکے خاص طریقے کے ڈاٹس دکھائے جائیں لیکن تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے آج تک یہ خیال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا تھا اور اس طریقے سے محض روشنی اور اندھیرے کا فرق ہی دکھایا جاسکا تھا۔

ڈیوائس میں ایک کیمرہ ہوگا جسے نابینا شخص پہنے گا، یہ چشمے کی طرح بھی ہوسکتا ہے جس میں کیمرہ نصب ہوگا، یہ کیمرہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جو بھی چیز اس کے سامنے ہوگی اس کا ایک مخصوص پیٹرن بناکر دماغ کو سگنل بھیجے گا۔تاہم اب این آئی این کے ڈائریکٹر پیٹر روئیلف سیما کی سربراہی میں ٹیم نے امپلانٹ ٹیکنالوجی کا 2 بندروں پر کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے تحت بصری قشر (VISUAL CORTEX) یعنی دماغ کا وہ حصہ جو دیکھنے سے متعلق ہوتا ہے، وہاں 1024 الیکٹروڈز نصب کیے گئے جس کے نتیجے میں پہلے سے بہتر معیار کی بینائی حاصل ہوئی۔اس طریقے سے دماغ کو یک رنگی تصاویر دکھانے میں تو بڑی کامیابی ملی ہے تاہم حقیقت سے قریب تر بصارت کا حصول اب بھی ایک چیلنج ہے۔

ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے اور ان کی ٹیم کے پاس اب اس اصول کا ثبوت بھی موجود ہے جس کے ذریعے ہم دنیا کے 4 کروڑ کے قریب نابینا افراد کیلئے نیورو پروستھیٹک ڈیوائس کی بنیاد رکھیں گے۔اس ڈیوائس میں ایک کیمرہ ہوگا جسے نابینا شخص پہنے گا، یہ چشمے کی طرح بھی ہوسکتا ہے جس میں کیمرہ نصب ہوگا، یہ کیمرہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جو بھی چیز اس کے سامنے ہوگی اس کا ایک مخصوص پیٹرن بناکر دماغ کو سگنل بھیجے گا، آسان لفظوں میں یہ کیمرہ ہی آنکھ کا کردار ادا کرے گا۔این آئی این کی ٹیم کو برقی پرزوں کا سائز چھوٹے سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے کافی فائد ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ آئندہ 3 برسوں میں انسانوں کیلئے یہ ڈیوائس تیار کرلیں گے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے فی الحال وہی لوگ مستفید ہوسکیں گے جو پیدائشی طور پر نابینا نہیں تھے اور کسی حادثے یا چوٹ کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوئے۔