بیوروکریسی اور نگران حکومتیں

بیوروکریسی اور نگران حکومتیں


(قیصر کھوکھر) وفاق میں نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر االملک نے چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے اور چاروں صوبائی حکومتیں ابھی تک نگران وزرائے اعلیٰ کا فیصلہ نہیں کر پا رہیں، جس سے ایک سیاسی جمود پیدا ہو گیا ہے ۔وفاق میں نگران وزیر اعظم نے چارج سنبھالتے ہی ٹاپ بیوروکریسی کے تبادلے کر دیئے ہیں۔

سیکرٹری ٹو وزیر اعظم فواد حسن فواد کو ڈی جی سول سروسز اکیڈمی تعینات کیا گیا ہے۔سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن سہیل عامر مرزا کو سیکرٹری ٹو وزیر اعظم تعینات کیا گیا ہے ۔یہ دونوں افسر مسلم لیگ ن کے ساتھ اپنی خاص قربت رکھتے ہیں ۔فواد حسن فواد جو کہ سیاسی حلقوں میں ایک متنازعہ حیثیت اختیار کر چکے ہیں، انہیں سول سروسز اکیڈمی کا ڈی جی لگایا جانابذات خود ایک سوالیہ نشان ہے، کیونکہ ان کے خلاف نیب میں کیسز چل رہے ہیں وہ نیب کی پیشیاں بھگتیں گے اورساتھ ساتھ سول سروسز اکیڈمی جوائن کرنے والے پروبیشنرز کو قانون کی پاسداری پر لیکچر دیں گے۔ اس سے قبل سابق ریکٹر نیشنل سکول آف پبلک پالیسی اسماعیل قریشی بھی ایک جانب انکوائریوں کا سامنا کرتے تھے۔

 پی ٹی آئی نے سابق چیف سیکرٹری ناصر محمود کھوسہ کا نام نگران وزیر اعلی کے لئے دیا لیکن بعد ازاں یہ نام واپس لے لیا گیا ہے ۔کہا جاتاہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ناصر محمود کھوسہ کا نام واپس لینے میں ایک سابق چیف سیکرٹری پنجاب جنہوں نے آج کل ایک سیاسی جماعت بھی بنا رکھی ہے ان کا بڑا ہاتھ ہیں کہ کہیں ناصر محمود کھوسہ کے نگران وزیر اعلیٰ بننے پر ان کے پرانے زخم ہرے نہ ہو جائیں ،کیونکہ پنجاب میں ناصر محمود کھوسہ ان کے بطور چیف سیکرٹری تبادلے کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب لگے تھے۔ ناصر محمود کھوسہ بطور چیف سیکرٹری پنجاب کئی بار وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے کئی غیر قانونی احکامات رد بھی کر دیا کرتے تھے۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ناصر محمود کھوسہ کی چوائس کوئی بری چوائس نہیں تھی وہ بہت سے امیدواروں میں بہتر امیدوار تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے نگران وزیر اعلیٰ کے حوالے سے ان کی اپنی پارٹی کے اندر مختلف گروپ اور دھڑے بازیاں ہیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود الرشید کچھ اور فواد چودھری کچھ اور سوچ رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان ، ایازا میر،ڈاکٹر حسن عسکری ، ناصر خان درانی ، یعقوب اظہار کے نام زیر غور ہیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ اب نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔ لیکن اب اگلے آنےوالے نگران وزیر اعلیٰ کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ کہ نئی انتظامیہ کا چناواو اور نئی نگران حکومت کی بنیاد رکھناجیسے اہم ایشوز در پیش ہوں گے۔ لیکن نگران وزیر اعلیٰ کو نئے چیف سیکرٹری اور نئے آئی جی پولیس کے فیصلہ میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہوگی، کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈی ایم جی ن سے تعلق رکھنے والے افسران دوبارہ پنجاب کی بیوکریسی کی باگ ڈور سنبھال لیں۔ کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سیکرٹری ٹو وزیر اعظم سہیل عامر مرزا کا میاں شہباز شریف کے خاص افسران میں شمار ہوتا ہے۔

پنجاب میں تعیناتی کے دوران انہیں ایڈیشنل چیف سیکرٹری تک کی تمام پوسٹنگز میاں شہباز شریف کی خاص قربت کی وجہ سے ملتی رہی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ سہیل عامر مرزا ایک شریف النفس افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ احمد نواز سکھیرا ، یوسف نسیم کھوکھر کا نام اگلے چیف سیکرٹری پنجاب کےلئے لیا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کیونکہ دونوں افسران پنجاب میں کام کر چکے ہیں لہٰذا نگران دور کے چیف سیکرٹری کے لئے پنجاب سے باہر دیگر صوبوں کے ڈومیسائل کے حامل کسی افسر کو پنجاب کا چیف سیکرٹری لگایا جائے تاکہ افسر شاہی کی نیت پر کوئی شک نہ کر سکے۔ سابق نگران دور میں صوبہ کے پی کے سے جاوید اقبال کو چیف سیکرٹری پنجاب لگایا گیا تھا جن پر کسی بھی قسم کی کوئی جانبداری سامنے نہیں آئی تھی ۔

اسی طرح پنجاب کا نگران دور کا آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری ان افسران کو لگایا جائے جنہوں نے کبھی پنجاب میں کام نہ کیا ہو تاکہ غیر جانبدار انتظامیہ سامنے آ سکے۔ لیکن اس ساری صورتحال میں ایک اچھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ پنجاب کی تیسری مسلسل اسمبلی نے اپنے پانچ سال پورے کئے ہیں۔ یہ ایک اچھی روایت ہے ۔ اس تسلسل میں کئی اتار چڑھاو بھی آئے ہیں۔ اس بات پر اپوزیشن اور حکومت کو نگران وزیر اعلی پر بھی اتفاق کر لینا چاہیے تاکہ الیکشن کمیشن کو آگے آنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے کیونکہ اگر یہ کام الیکشن کمیشن نے کیا تو یہ سیاستدانوں کی ایک اور ناکامی ہوگی کیونکہ سیاسی معاملات سیاسی پلیٹ فارم پر ہی حل ہوتے اچھے لگتے ہیں۔

اس وقت تحصیل اور ضلع کی سطح سے لے کر پنجاب سول سیکرٹریٹ تک تمام انتظامیہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی وابستگی کی وجہ سے تعینات ہے اور یہ ایک قدرتی امر ہے کہ گزشتہ دس سال سے پنجاب اور سندھ میں ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت ہونے سے ان افسران کی اس سیاسی جماعت سے قدرتی طور پر ایک وابستگی پیدا ہو چکی ہے۔ اے سی، تحصیلداران، ڈی سی اور ڈی پی او اور ڈی ایس پی جو براہ راست الیکشن کمیشن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان کا غیر جانبدار ہونا بہت ضروری ہے۔

اس وقت پنجاب کے اکثر اضلاع اور ڈویژن میں شہباز شریف کے ساتھ ایوان وزیر اعلیٰ میں کام کرنے والے افسران ڈی سی اور کمشنر اور سیکرٹری ہیں۔ نگران وزراءاور وزیر اعلی سے زیادہ غیر جابندار انتظامیہ زیادہ ضروری ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ کو تما م لسٹیں اور ان پٹ انہیں افسران نے دینا ہوتا ہے اور یہ کام غیر جابندار افسرشاہی ہی کر سکتی ہے ۔ تحصیل کی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک غیر جانبدار نگران حکومت اورغیر جانبدار انتظامیہ فیئر اینڈ فری الیکشن کے لئے ایک کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شہباز شریف کی تعینات کی گئی موجودہ انتظامیہ کسی بھی طرح کسی بھی سیاسی جماعت کو قابل قبول نہیں ہوگی۔ فیئر اینڈ فری الیکشن ہونے سے ملک و قوم کے نوے فی صد مسائل ازخود حل ہو جاتے ہیں۔