آٹا ،چینی کی قلت برقرار،ضلعی انتظامیہ شہریوں کو سستی اشیا فراہم کرنے میں ناکام

آٹا ،چینی کی قلت برقرار،ضلعی انتظامیہ شہریوں کو سستی اشیا فراہم کرنے میں ناکام

حسن علی : ضلعی انتظامیہ کے تمام تردعوئوں کےباوجود شہر میں چینی70 روپےفی کلومیں فروخت نہ ہوسکی جبکہ یوٹیلٹی سٹورز پربھی سستی چینی اورآٹے کی قلت بدستور برقرار رہی۔

ضلعی انتظامیہ نےشہر میں چینی کی قیمت70 روپے فی کلو تومقررکر دی لیکن تین ہفتے گزرنے کےباوجود بھی عمل درآمد نہ ہو سکا،شہر میں روزانہ چینی کی طلب 500 ٹن ہےجس میں سے70 روپےفی کلومیں چینی صرف9 ٹن روزانہ کی بنیاد پرفراہم کی جا رہی ہے جبکہ491 ٹن چینی 80 سے85 روپے میں ہی فروخت ہورہی ہے، انتظامیہ کی جانب سےمنافع خوروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی، یوٹیلٹی سٹورز پربھی سستی چینی اور آٹے کی قلت بدستور برقرار رہی۔

شہریوں کا کہنا ہےکہ حکومت مارکیٹ میں چینی کی فروخت 70 روپےمیں کرانے کے ساتھ ساتھ یوٹیلٹی سٹورز پر چینی اور آٹے کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے۔دکانداروں کا کہنا ہےکہ انہیں اکبری منڈی سے چینی 76 روپےتک میں ملتی ہے تو وہ 70 روپے فی کلومیں کیسے فروخت کر سکتے ہیں۔

 یاد رہے وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں کابینہ نے محکمہ خوراک کی جانب سے سرکاری سطح پر فنکشنل فلور ملز کو گندم جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت 1475 روپے سرکاری سطح گندم کی فروخت کرے گی، جس پر آٹے کی پہلے سے مقرر کردہ 805 روپے کی قیمت سے بڑھا کر 850 روپے کردی گئی ہے۔ اب مارکیٹ میں آٹے کی رٹیل پرائز 875 روپے ہو گی۔ پنجاب میں فنکشنل فلور ملز کو دو ماہ میں نو ملین میٹرک ٹن گرم 9 ارب روپے کی سبسڈی کے ساتھ جاری کی جائے گی۔ پنجاب حکومت کا دعوی ہے کہ ان کی جانب سے آٹے کی قیمت میب مارکیٹ کے مقابلے میں آٹے کے تھیلے کی مارکیٹ قیمت میں 250 روپے تک کمی کی گئی ہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق آٹے کا مارکیٹ میں فروخت ہونے والا تھیلہ 1100 سے کم کرکے 850 روپے مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ اس سے آٹے کی سرکاری سطح مقرر گردہ قیمت 805 روپے تھی۔ پنجاب حکومت کے مطابق ماضی میں فلور ملز کو اگست ستمبر میں سرکاری گندم ریلیز کی جاتی تھی۔ اب پنجاب کابینہ نے جولائی میں گندم ریلیز کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ گندم کی عبوری پالیسی کی دو ماہ کے لئے منظوری دی گئی ہے۔