مہنگائی نے لاہوریوں کے چھکے چھڑا دیئے

مہنگائی نے لاہوریوں کے چھکے چھڑا دیئے

 (نبیل ملک، شہزاد خان، بسام سلطان) مہنگائی کے طوفان سے لاہوریئے سخت پریشان، اوپن مارکیٹ کے بعد اکبری منڈی میں بھی چینی کی قیمت نے سنچری مکمل کر لی، اکبری منڈی میں ایک کلو چینی کی کم سے کم قیمت 102 روپے ہوگئی، اکبری منڈی کے تاجروں کے مطابق منڈی میں 50 کلو چینی کی بوری 5100 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، چینی کی غیر یقینی اور بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث کئی تاجروں نے چینی فروخت کرنا ہی بند کر دی۔

شہر کے مختلف مقامات پر چینی 100 سے 120 روپے فی کلو میں فروخت جاری ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومتی چھاپوں کے بعد آئے روز اب ٹائیگر فورس بھی ڈراتی دھمکاتی ہے، ایسے غیر یقینی حالات میں مہنگی چینی خرید کر سستی فروخت نہیں کر سکتے۔

 دوسری جانب یوٹیلیٹی سٹورز بھی لاہوریوں کیلئے مسائلستان بن گئے، چینی 68 روپے کلو دستیاب لیکن ایک ہزار سے کم خریداری پر کسی کو بھی ملتی، شہریوں کے مطابق تمام یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کے 2 کلو پیکٹ کی خریداری کے لئے ایک ہزارکی غیر ضروری اشیاء خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، دو وقت کی روٹی کمائیں یا 2 کلو چینی کیلئے ایک ہزار کی خریداری کریں، حکومت اگر ریلیف نہیں دے سکتی تو عوام پر ظلم بند کر دے۔

 یوٹیلیٹی اسٹورز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینی کی قلت کے باعث ایک خریدار کو صرف ایک پیکٹ چینی فراہم کی جارہی ہے، اگر من مانی مقدار میں چینی فروخت کریں گے تو اسٹاک ختم ہو جائے گا، اکثر دکاندار گاہک کا روپ دھار کر زیادہ چینی لے جاتے ہیں، ہم سے سستی چینی لے جانے والے باہر پھر چینی مہنگی فروخت کرتے ہیں۔

رواں ہفتے کے دوران شہر میں برائلر مرغی کا گوشت 35 روپے فی کلو تک مہنگا ہوگیا، جبکہ فارمی انڈوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں، فارمی انڈے 200 روپے فی درجن تک فروخت ہونے لگے، مرغی کے گوشت کی قیمت 258 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ 

سرکاری نرخنامے میں انڈوں کی فی درجن قیمت 166 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں انڈے 180 سے 200 روپے فی درجن تک فروخت کیے جارہے ہیں جس پر شہریوں کا پارہ ہائی ہوگیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ریلیف کی دعویدار حکومت پرتعیش طرز زندگی سے باہر نکل کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور مہنگائی کنٹرول کرے، دالیں بھی اوپن مارکیٹ میں 15 سے 75 روپے اضافی قیمت پر فروخت ہونے لگیں، جن دکانوں پر ڈالیں موجود وہاں اضافی قیمت جبکہ کئی دکانوں پر دالیں نایاب ہونا شروع ہو گئیں۔

 شہر کی اوپن مارکیٹ میں دالیں سرکاری ریٹ سے 15 سے 75 روپے مہنگی فروخت ہونے لگیں، زیادہ تر دالیں 15سے 25 روپے تک مہنگی بیچی جارہی ہیں، دال ماش سرکاری ریٹ لسٹ کے برعکس 75 روپے تک مہنگی فروخت ہونے لگی، ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کرانے میں غیر سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔ 

کریانہ سٹورز مالکان  نے کہا ہے کہ آئے روز ضلعی انتظامیہ جرمانے کرتی ہے، اکبری منڈی تک میں قیمتیں بڑھ گئیں، دالیں کی فروخت سے الٹا نقصان ہوتا ہے۔