وزیراعظم کے استعفیٰ کے حوالے سے وزیر خارجہ کا مولانا کو مشورہ

( عرفان ملک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے دھرنے اور آزادی مارچ کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، ہمارے دھرنے میں آنسو گیس پتھر اور سیڑھیاں لگا کر کارکنوں کو پکڑا گیا تھا، کراچی سے چلنے والے آزادی مارچ کو کسی مقام پر نہیں روکا گیا۔

گورنر ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ آزادی مارچ سے پہلے پاکستانی میڈیا کیساتھ فارن میڈیا کی نظریں مسئلہ کشمیر پر تھیں لیکن اب میڈیا کا فوکس بھی آزادی مارچ کی وجہ سے ہٹ گیا ہے۔ انڈین میڈیا بھی آزادی مارچ کی وجہ سے سکون میں چلا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم عزت دینے والے لوگ ہیں، آزادی مارچ کیلئے انہیں پانی فراہم کیا جارہا ہے، میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں، ہم معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا مارچوں سے حکومتیں نہیں گرتی، آئین میں حکومت بنانے اور گرانے کا طریقہ کار واضع ہے۔ تحریک انصاف کو پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہے، لوگ پوچھتے ہیں 50 لاکھ گھروں اور نوکریوں بارے پوچھتے ہیں، ہم جوابدہ ضرور ہیں لیکن تھوڑا انتظار کریں ابھی تو صرف ایک سال ہوا ہے۔

ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے وزارت خارجہ جانے کے بارے میں پوچھے جانیوالے سوال پر شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ تمام حقائق وزیراعظم کے سامنے رکھ دیئے ہیں اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔

کرتا پور راہداری کے بارے میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ لاکھوں کشمیریوں کے قاتل مودی کو تقریب میں بلوانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تاہم منموہن سنگھ کو دعوت بھیجی گئی ہے۔