سکول کھولنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، مراد راس

سکول کھولنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، مراد راس

(جنید ریاض) صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ پیر سے سرکاری ونجی سکول کھولنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ہم بچوں اور اساتذہ کی زندگی کو کسی صورت خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم نے نجی سکولوں کی جانب سے یکم جون کو سکول کھولنے کی دھمکی کے اعلان کے بعد اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  پیر سے سرکاری ونجی سکول کھولنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، سکول تب تک بند رہیں گے جب تک پنجاب حکومت کھولنے کی اجازت نہیں دے گی۔

مراد راس نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد ہی سکول کھولنے کی اجازت ہوگی، ہم سکول کھولنے کی اجازت دے کر بچوں اور اساتذہ کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

دوسری جانب 

وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے حکومت سے کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہونے والے مدارس کو حفاظتی تدابیر کی روشنی میں کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔

جامعہ اشرفیہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سینئر رہنما مولانا قاضی عبدالرشید نے مہتمم اعلیٰ جامعہ اشرفیہ حافظ فضل الرحیم اشرفی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی، ان کا کہنا تھا کہ مشاورتی اجلاس میں 2 جون سےمدارس میں داخلے اور 12 جون سے کلاسوں کے آغاز کی تجویز دی گئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت کرے گی۔

 مولانا قاضی عبدالرشید نے کہا کہ اجلاس میں پرائیویٹ سکولز سے مل کر حکومت پر دباؤ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، تبلیغی مراکز کھلوانے اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیاں شروع کرانے میں معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاپنگ مالز، ٹرانسپورٹ، بازار، سبزی منڈیاں اور نادرا کے دفاتر کھل سکتے ہیں تو مدارس کیوں نہیں کھولے جاسکتے، صدر مملکت کےساتھ تیار کردہ 20 نکاتی ایس او پیز پر کسی شعبہ نے عمل نہیں کیا، صرف مساجد میں عمل کیا گیا، مذہبی طبقے کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، مدارس کو مزید بند رکھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔