حکومت کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لینے کا فیصلہ

حکومت کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لینے کا فیصلہ

سٹی42: حکومت کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لینے کا فیصلہ،  اگلے مالی سال کے دوران وزارت خزانہ کا 15 ارب ڈالرز کا قرضہ لینے پر غور، کمرشل بینکس اور غیر ممالک سے قرضہ لیا جائے گا، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا حجم بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان پرمزید قرض چڑھنے کوتیار، حکومت  پنجاب نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے، آئندہ مالی سال  کے لئے وزرات خزانہ نے 15ارب ڈالرقرض لینے پرغورشروع کردیا، پاکستان پرقرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھنے لگا ہے،  قرضوں اورسود کی ادائیگی کے لیے پاکستان کا خزانہ خالی ہو گیا ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ  بین الاقوامی اداروں، کمرشل بینکوں اور غیرممالک سے قرضہ لے گی، نیا قرضہ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے حاصل کیا جائے گا، پاکستان کا مقامی قرضوں کا حجم 42 ارب ڈالر،مجموعی قرضے 85 ارب ڈالرسے تجاوز کرچکے ، آئندہ سال میں حکومت کا قرضوں پر سود کی ادائیگیوں  کے لئے 3200 ارب مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قرض ادائیگیوں کا حجم5سے 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان پرقرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھنے لگا ہے، قرضوں اورسود کی ادائیگی کے لیے پاکستان کا خزانہ خالی پڑا ہے، وزارت خزانہ نے آئندہ مالی سال کے دوران 15 ارب ڈالرز کا قرضہ لینے پرغور شروع کردیا ہے۔ ان میں سے 10 ارب ڈالرپرانے قرضوں کی ادائیگیوں پرخرچ کیے جائیں گے ۔

آئندہ مالی سال کے دوران وزارت خزانہ بین الاقوامی اداروں، کمرشل بینکوں اور غیرممالک سے قرضہ لے گی، ان ممالک میں چین اور سعودی عرب بھی شامل ہیں، وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ نیا قرضہ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے حاصل کیا جائے گا ، پاکستان پرمقامی قرضوں کا حجم 42 ارب ڈالر جب کہ مجموعی قرضے 85 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں آئندہ مالی سال کے دوران حکومت نے قرضوں پرسود کی ادائیگیوں کے لیے 3200 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے قرض ادائیگیوں کا حجم پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔