سفر نامہ(2)

سفر نامہ(2)

(فروا وحید) عربوں کی زندگی ہماری زندگی سے بڑی مختلف ہوتی ہے اس بات کا احساس مجھے ان کے درمیان رہ کر ہوا۔ وہاں پر پاکستان کو اور پاکستانیوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے یہ بات بھی عیاں ہوئی۔ ایک بات ان میں زیادہ محسوس ہوئی اور وہ عاجزی کی کمی۔ مجھے وہاں 15گھنٹے گزارنے کے بعد معلوم ہوا کہ اللہ نے زیادہ تر پیغمبر عرب میں ہی کیوں بھیجے۔ سعودی عرب جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا قومی لباس برقع ہے پر انہوں نے اسے بھی کسی حد تک فیشن کی نذر کردیا ہے یہ انکے برقع کی بناوٹ سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ عربی بہت حد تک برینڈ کے شوقین ہیں۔ ان کے پرفیوم سے لے کر ان کے ہاتھ میں موجود گھڑی تک سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

 میں نے اس تمام وقت میں اپنی اور ان کی قوم میں فرق دیکھا۔ اس کے علاوہ ہم میں بس اسلام ہی سانجھی چیز ہے۔یہ تمام وقت میں نے لاﺅنج میں گزارا اس لیے وہاںکی ساری جگہ دیکھ لی۔ بوریت کی وجہ سے کبھی لیپ ٹاپ کھولتی کبھی کتاب پڑھتی۔ اس دوران رضوان میرے پاس آیا اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ بولا آپ ٹھیک ہیں؟ میں نے ہاں میں جواب دیا اور ساتھ ہی پوچھا کہ میں کس طرح گھر والوں سے رابطہ کر سکتی ہوں۔ اس نے مجھے اپنا فون دیا اور کہا کہ آپ اپنے گھر بتا دیں مگر فلائٹ کا بتائیں گی تو وہ پریشان ہوجائیں گے۔ بات تو ٹھیک تھی اگر یہ بات ان سے کروں گی تو پریشان تو ہوں گے۔ میںنے فون تھاما اور شکریہ ادا کیا مگر جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے کیوں کہ اس وقت اس نے فرشتہ جیسا کردار ادا کیا تھا میرے لیے۔

میں نے والد کا نمبر ملایا اور تیسری گھنٹی پرانہوں نے فون اٹھا لیا جیسے وہ میرے ہی فون کا انتظار کررہے ہوں ۔میں نے ان کے ہیلو بولنے کے بعد ایک ہی سانس میں بولا ہیلو پاپا میں فروا بات کر رہی ہوں! ”فروا! کیسی ہو بیٹا؟ کہاں ہو ؟ پہنچ گئیں ترکی؟? ایک ساتھ اتنے سارے سوال یقینا اس بات کا ثبوت تھے کہ ان کو میری کتنی فکر تھی! دل تو کہ رہا تھا کہ سب بول دوں کہ کیسے میں نے فلائٹ مس کردی اور میں گھر کو کس قدر یاد کر رہی ہوں، پر اپنے بہتے خاموش آنسوﺅں اور جذبات پر قابو پایا اور مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ میں ٹھیک ہوں فکر کی کوئی بات نہیں ہے! میری فلائٹ لیٹ ہوگئی ہے پر اب تھوڑا ہی وقت باقی ہے میں اب بھی جدہ میں ہوں مگر جلد ہی ترکی کے لیے نکل جاؤں گی۔

انہوں نے کئی سوالات کرنا چاہے مگر میں نے ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہا کہ مجھے جانا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اب تم کب فون کرو گی؟ میں نے کہا جلد ہی۔ آپ بے فکر رہیں! میں ترکی پہنچ کر آپ کو اطلاع کردوں گی۔ اس کے بعد میں نے اللہ حافظ کہا اور پھر فون بندکر دیا۔ فون تو بندہوگیا۔ مگر یوں لگا کہ دل بھی حرکت کرنا بھول گیا۔ ماں باپ کتنی بڑی رحمت ہوتے ہیں، یہ احساس مجھے اس وقت ہوا۔ گھر میں ذرا سا کچھ ہوجائے اور ماں باپ گھر نا ہوں تو میں پورا گھر سر پر اٹھا لیتی ہوں، بار بار فون کرتی ہوں مگر یہاں تو کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتی۔

 اس سوچ میں کھوئی ہوئی تھی کہ رضوان آیا اور سامنے کھڑا ہوگیا۔ ان سے ملیں ! یہ ریم ہیں! میری دوست۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ایک خوبصورت لڑکی میرے سامنے سیاہ برقع پہنے کھڑی تھی اس کا قد درمیانہ تھا اور مسکراہٹ دلکش۔ میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سلام کیا، اس نے بھی پر جوش انداز میں ہاتھ ملتے ہوئے جواب دیا۔ ریم ایک عربی لڑکی تھی اور اب تک ملنے والی تمام لڑکیوں سے وہ مختلف بھی تھی۔ انتہائی خوش اخلاق تھی۔۔ اس کے بعد میں جانے تک تقریباََ سارا وقت اس کے ہی ہمراہ رہی۔ اس کے اچھے اخلاق نے میرے دل میں گھر کر لیا مگر باقی تمام وقت میں جس تکلیف میں رہی اور جس طرح عربیوں نے ٹریٹ کیا میں وہ نہیں بھولی نہ ہی شاید بھول پاؤں گی۔

شام کے ساڑھے سات ہو رہے تھے اور بوڑدنگ ہو چکی تھی، رضوان اور ریم سے الوداع ہوئی اور جہاز کی طرف چل دی۔ اپنا بیگ کیبن میں رکھا، سیٹ نمبر دیکھا اور بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد جہاز نے اڑان بھری۔ اس سفر نے مجھے شروعات میں ہی بہت کچھ سکھا دیا تھا مگر ابھی تو اور سیکھنا ہے۔ اس خیال میں سارا سفر کاٹ لیا کہ ترکی کیسا ملک ہوگا؟ کیا وہاں کے لوگ بھی پاکستانی لوگوں سے وہی سلوک رکھتے ہوں گے جو میں نے جدہ میں دیکھا یا پھر مختلف ہوگا؟

جہاز میں اب آخری اعلان ہورہا تھا۔ ہم ترکی پہنچ گئے تھے۔ میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نظارہ انتہائی خوبصورت رات کاتھا جیسے زمین پر ہزاروں جگنوں موجود ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین اور ہماری دوری کم ہوتی گئی۔ جہاز لینڈ ہوگیا۔

میں نے بھی تمام مسافروں کی طرح اپنا بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف چل پڑی۔ باہر ایک بڑی بس پہلے سے ہی موجود تھی اور شاید اسی بس سے ہم نے اتاترک ائیرپورٹ کے اندر جانا تھا۔ میں بھی سب کے ساتھ اس بس میں چڑھ گئی۔ بس نے ہمیں ائیرپورٹ کے ایک دروازے کے سامنے اتارا اس کے باہر ایک شخص موجود تھا جس نے ہمیں اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا۔ میں اندر داخل ہوئی تو سامنے چیکنگ پوانٹ تھا۔ وہاں پر چیکنگ ہوئی اور پھر میں لاﺅنج میں آگئی۔ جیسے ہی میں لاﺅنج میں داخل ہوئی تو یوں لگا کہ میں کسے اور ہی دنیا میں ہوں۔ میرے چاروں جانب کے لوگوں کا رنگ انتہائی صاف اور آنکھیں بےحد خوبصورت تھیں۔

یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ اس زمین کے ہیں ہی نہیں، کسی کی آنکھوں کا رنگ نیلا کسی کا سبز تو کسی کا گرے تھا۔ میں نے آج تک جو کچھ ترکش ڈراموں سے اخذ کیا تھا یہ سب اس سے بھی کئی گنا حسین تھا۔ ترکی کے لوگ ایسے ہیں جیسے کتابوں کے قصے۔ میں لین میں تھی اور نمبر آنے پر میں نے اپنا پاسپورٹ آگے کیا، کاؤنٹر پر بیٹھی اس لڑکی نے ترکش زبان میں کچھ کہا اور پاسپورٹ پر ٹھپا لگایا۔ اس کے بعد میں ساتھ والی لین سے ہوتی ہوئی لاﺅنج کے اندر داخل ہوئی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اتاترک ائیرپورٹ انتہا کا خوبصورت ائیرپورٹ ہے۔ یہ ائیرپورٹ جدہ ائیرپورٹ سے ۱۰ گنا وسیع تھا۔ میں نے یادگار کے طور پر وہاں کی کچھ تصاویر لیں اور پھر بیلٹ کی طرف چل پڑی۔

 وہاں پر پہلے سے کافی لوگ موجود تھے۔ میں بھی سب کی طرح وہاں موجود رہی مگر وقت جیسے جیسے گزرتا گیا سب جاتے رہے کیوں کہ ان کو ان کا سامان مل گیا تھا مگر میں وہاں پونے دو گھنٹے کھڑی رہی یہاں تک کہ اب تو بیلٹ بھی بند ہوگئی تھی اور وہاں رات کا ایک بج رہا تھا۔ میرا ساماں بیلٹ پر نہیں تھا۔ میں نے ارد گرد کے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی مگر یہاں تو سعودی عرب سے بھی زیادہ برا حال تھا۔ ہائے میں کہاں پھنس گئی۔ یہاں میں کس سے پوچھوں کہ میرا سامان کہاں ہے؟ میں سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے پریشان ہوگئی اور یہاں وہاں پھرنے لگی اتنی دیر میں وہاں پر ائیرپورٹ آفیسر موجود تھا جو میری سمت کی جانب ہی آرہا تھا میں نے اس کو روکا۔

 ایکسکیوزمی کین یو ہیلپ می؟ آئی کڈنٹ فائنڈ مائے لیگج؟ اس نے میری جانب دیکھا اور کہا کم ود می۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چلتی گئی اور پھر ہم ایک کمرے کے آگے آکے رک گئے۔ اس کمرے کے باہر واضح لکھا تھا لیگج مسنگ کمپلینٹ آفس۔ ہم اندر گئے اور اس نے سامنے آفیسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گو! میں سامنے بیٹھے آفیسر کے پاس گئی جو کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہا تھا۔ میں نے اسے وہی بات کہی جو پچھلے آفیسر سے کہی تھی اس نے مجھ سے میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ مانگا پھر اس نے فون اٹھایا اور کہیں ترکش زبان میں بات کرنے لگا پھر فون بند کیا اور بولا یو مسڈ یور فلائٹ میں نے یس کہتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا پھر اس نے کہا سوری یور لیگج از ان جدہ، دے آف لوڈ دیٹ۔! اس کا یہ کہنا تھا میرے پسینے چھوٹ گئے۔ ! اب کیا ہوگا؟ کیا مصیبت ہے فروا۔ تیرے پاس تو کپڑے بھی نہیں ہیں۔ یاخدایا ! میں کیا کروں گی؟

(جاری ہے)

فروا وحید