نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی رہائی کی تمام اُمیدیں دم توڑ گئیں


(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو دی گئی سزائیں کالعدم قرار دینے کے لئے دائر تمام درخواستیں مسترد کردیں۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:پانڈو سٹریٹ شبیہ ذوالجناح

تفصیلات کے مطابق  جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل فل بنچ نے اے کے ڈوگر سمیت دیگر چھ درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد نیب قانون غیر موثر ہے، اسکے تحت دی جانے والی سزا غیر آئینی ہے، لہذا استدعا ہے کہ سزا کالعدم قرار دی جائے۔

نیب کے وکیل ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب اختر بھروانہ نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاد کے بعد نیب آرڈیننس جاری ہوا ، بعد میں اسے قانونی تحفظ دے دیا گیا۔

نیب وکیل کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترامیم کے ذریعے نیب سمیت تمام صدارتی آرڈیننسز کو تحفظ مل گیا، نواز شریف کیس اور اٹھارویں ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، عدالت صرف کسی قانون کی بدنیتی کا نوٹس لے سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو دی گئی سزا ؤں کو نیب قانون کے مطابق درست قرار دے دیا۔