2 سال میں مقدمات میں سزا یابی کی شرح 70 فیصد رہی

2 سال میں مقدمات میں سزا یابی کی شرح 70 فیصد رہی

مال روڈ (علی اکبر) دو سال میں مقدمات میں سزا یابی کی شرح قتل میں 28 فیصد، اغواء میں 3 فیصد، ریپ میں 6 فیصد اور چوری و ڈکیتی میں 24 فیصد رہی۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں اجلاس ہوا جس میں محکمہ پبلک پراسیکیوشن پنجاب کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر پراسیکیوشن چودھری ظہیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری پراسیکیوشن، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور متعلقہ افسر اجلاس میں شریک تھے۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے پراسیکیوٹرز کو تاکید کی کہ وہ تفتیش میں بلا تاخیرپولیس کی معاونت کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قانون میں ایسی ترامیم لائی جائیں کہ ریپ کی متاثرہ خاتون کو کچہری کے باربار چکر نہ لگانا پڑیں۔

سیکرٹری نے بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ دو سال میں مقدمات میں سزا یابی کی شرح قتل میں 28 فیصد، اغوا میں 3 فیصد، ریپ میں 6 فیصد اور چوری و ڈکیتی میں 24 فیصد رہی، محکمہ کوعمارتوں، گاڑیوں، سٹاف، بجٹ، آئی ٹی اور تربیتی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے، 3 ہزار 866 میں سے 731 آسامیاں خالی ہیں۔

سیکرٹری نے مزید بتایا کہ جرائم میں سزایابی کی مجموعی شرح 2019 ء میں تقریباً 62 فیصد جبکہ امسال 70 فیصد سے زائد رہی، وزیر قانون نے یقین دہانی کرائی کہ افسر محنت کریں، ان کے مسائل حل کرانے کے لئے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

دوسری جانب جعلی پولیس وردی میں بڑھتی ہوئی وارداتوں اورجعلی اہلکاروں کیخلاف سخت کاروائیوں کا فیصلہ کر لیا گیا، تمام اضلاع میں افسران اور اہلکاروں کوسروس کارڈ ایک ہی طرح کا جاری ہوگا، پولیس ملازم کے سر وس کارڈ پرکیو آر کوڈ ہوگا جبکہ 7 سکیورٹی فیچر بھی ہوں گے، کارڈ میں ملازم کا نام اور بیلٹ نمبر ہوگا اور باقی کوائف کیو آر کوڈ میں موجود ہوں گے، صوبہ بھر میں پولیس کے کسی بھی دفتر میں جانے کیلئے ملازم اپنا کارڈ مشین میں سکین کرے گا، ناکوں پر بھی کارڈ مشین پر چیک کرنے سے ملازم کا تمام ریکارڈ سامنے آجائے گا۔