رضا ربانی نے سی پیک اتھارٹی پر سوال اٹھا دیئے

 رضا ربانی نے سی پیک اتھارٹی پر سوال اٹھا دیئے

 (ماینٹر نگ ڈیسک)  سینیٹ اجلاس میں ہنگامہ، اپوزیشن اور حکومتی ارکان کا احتجاج، رضا ربانی نے سی پیک اتھارٹی پر سوال اٹھا دیئے۔ 

سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں حکوت پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضاربانی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سی پیک آرڈیننس متروک ہوچکا، کسی قانون کے بغیر سی پیک اتھارٹی کام کر رہی ہے، اب حکومت ایک نیا بل لائی ہے جس کے تحت سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کو استثنیٰ دینے جارہی ہے، یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ سب اداروں پر نیب کا قانون لاگو ہو اور ایک ادارے کو استثنیٰ ہو، کیا ایک شخص کو این آر او دینے کی کوشش کی جارہی ہے، رضا ربانی کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان وزرا نشستوں پر کھڑے رہے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے رضا ربانی کے توجہ دلاؤ نوٹس کو سی پیک پر شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت نے سی پیک کو ذاتی پراجیکٹ بنا رکھا تھا، ہم ادارے بنانے آئے ہیں، سی پیک کو غیر سیاسی ادارہ بنانا چاہتے ہیں، دیکھیں گے قومی اسمبلی سے پاس ہوکر بل یہاں آئے گا تو یہ ملکی مفاد میں حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔

 وفاقی وزیر کے بیان کے دوران اپوزیشن نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہاکہ وزرا ایوان سے واک آئوٹ کر رہے ہیں یہ پہلی دفعہ دیکھا ہے، ڈاکٹر بابر اعوان نے بتایا کہ عافیہ صدیقی نے رحم کی اپیل پر دستخط کر دیئے ہیں جو امریکی صدر کے پاس جائے گی۔

سینیٹ میں مشاہد اللہ خان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے احتجاج کیا، سینٹ میں اپوزیشن نے آئی لینڈ اتھارٹی سے متعلق آرڈیننس معاملے پر اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج کیا۔

 سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ صوبوں کی ملکیت پر آرڈیننس کے ذریعے قبضہ کرنا غیر آئینی ہے، سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان، جماعت اسلامی، پی کے میپ نے علاقوں کے مسائل کے حل میں تاخیر پر سینٹ سے واک آؤٹ کیا، ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈی والا نے وزیر اطلاعات شبلی فراز کو بات کرنے سے روک دیا، حکومتی سینیٹر میاں عتیق شیخ کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی،کورم پورا نہ پونے پر سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔