نوجوان لڑکی کی عدم بازیابی پر عدالت نے تحقیقاتی ٹیم کو بڑا حکم دیدیا

نوجوان لڑکی کی عدم بازیابی پر عدالت نے تحقیقاتی ٹیم کو بڑا حکم دیدیا

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ میں نوجوان لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت، ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد نوید عدالت پیش، عدالت کا لڑکی کی عدم بازیابی پر اظہار ناراضگی، چوبیس دسمبر تک لڑکی بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے یاسمین بی بی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ اسکی بائیس سالہ بیٹی صباء کو ملزمان نے اغواء کرلیا جس کا شیخوپورہ میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا گیا،، مقدمہ درج کروانے کے باوجود شیخوپورہ پولیس لڑکی کو بازیاب نہیں کرا رہی۔

درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت لڑکی کو بازیاب کروا کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے، ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت لڑکی کی بازیابی کیلئے تمام اقدامات کررہی ہے، سپیشل ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے، استدعا ہے کہ عدالت لڑکی کی بازیابی کے لیے مزید مہلت دے، عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد چوبیس دسمبر تک لڑکی بازیاب کراکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسرے کیس میں جسٹس چودھری مشتاق احمد نے مومنہ بی بی کی درخواست پرعبوری حکم جاری کیا ،عدالت نے ایس پی کینٹ کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود بچہ بازیاب نہ کرانے پر سی سی پی او کو طلب کیا۔ عدالت اس کیس میں ایس پی کوبھی دو مرتبہ طلب کرچکی ہے، لیکن یقین دہانی کے باوجود بچے کو بازیاب نہیں کروا سکےتھے ۔جس پرعدالت نےآئندہ سماعت پر سی سی پی او کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا جائے۔