بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت

بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت

(قیصر کھوکھر) پی ٹی آئی کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل یہ نعرہ لگایا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر بیوروکریسی کو سیاست سے فری کرے گی اور یہ کہ بیوروکریسی میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی اور ہر ملازم اور ہر افسر میرٹ پر تعینات کیا جائے گا اور وہ میرٹ پر ہی کام کرے گا۔ اور مسلم لیگ ن کا سیاسی مداخلت کا طریقہ کار تبدیل کر دیا جائے گا اورپنجاب میں بھی کے پی کے ماڈل اپنایا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ افسر شاہی کو خود مختار بنایا جائے گا اور اس میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرے گا اورہر کوئی قانون اور ضابطہ کے مطابق کام کرے گا۔ لیکن یہ خواب ابھی تک پورا نہیں ہو پا رہا اور دور دراز علاقوں کو بھی ترقی کے دائرے میں لایا جائے گا لیکن یہ سب کچھ ابھی تک نہیں ہو پا رہا ۔

  حکومت سے تو ابھی تک ڈالر ہی کنٹرول نہیں ہو پا رہا ،وہ بیوروکریسی میں عدم سیاست کہاں لائے گی, مسلم لیگ ن کی حکومت نے آخری سال میں بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت شروع کی تھی، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے سال سے ہی افسر شاہی میں سیاسی مداخلت تیز کر دی ہے اور تمام انتظامی معاملات سیاسی بنیادوں پر نمٹائے جا رہے ہیں۔ جب ایک ایس ایچ او ، اے سی، اور ڈی ایس پی ، ڈی پی او اور ڈی سی سیاسی سفارش پر تعینات ہوگا تو وہ اپنے ضلع میں ہر وہ کام کرے گا جو اسے اس کا ”سیاسی باس“ کہے گا۔ عمران خان کا اپنا ایک ویژن ہے، لیکن ان کی ٹیم میں وہی لوگ شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے بن گئے ہیں لہٰذا اس حلقے میں ہر کوئی اس کے ماتحت آ گیا ہے اور خاص طور پر ریونیو اور پولیس اس کے ماتحت ہے۔

 یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے اور ہمارے معزز ارکان اسمبلی کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک پارلیمان کا حصہ ہیں ،ان کا کام قانون سازی ہے نہ کہ پٹواریوں اور تھانیداروں کے تقرر و تبادلے کرانا۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی پنجاب سول سیکرٹریٹ اور آئی جی آفس اور پولیس دفاتر اور ڈی سی دفاتر میں پٹواریوں اور تھانیداروں کے تبادلے کرانے کیلئے چکر لگا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے کئی ایک اضلاع میں ڈی سی اور ڈی پی او بھی سیاسی سفارش پر تعینات کر دیئے ہیں۔ جس سے پورے کا پورا ضلع ان سیاسی قائدین کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ اردو کا ایک محاورہ ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ حکومت کو اس محاورے پر عمل کرنا چاہئے اور کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہ کرے۔ ہر کوئی اپنا اپنا کام کرے تاکہ سسٹم آگے کی جانب چلے۔ جب یہی سیاستدان ترقیاتی کاموں میں مداخلت کرتے ہیں تو اس کے اثرات انتہائی خطر ناک ہوتے ہیں کیونکہ ایک رکن اسمبلی صرف ان علاقوں میں گلیاں نالیاں، سڑکیں ہسپتال، اور سکول بناتا ہے جن علاقوں میں اس کا ووٹ بینک ہوتا ہے ۔ اس سے ایک خاص علاقہ ترقی کر جاتا ہے اور وہ علاقے جو سیاسی طور پر ارکان اسمبلی کے خلاف ہوتے ہیں وہ ترقی سے محروم رہ جاتے ہیں۔

 ارکان اسمبلی ترقیاتی کام کروانے میں بھی تعصب سے کام لیتے ہیں اور تھانہ کچہری کے کام بھی اسی انداز میں ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ ڈی سی اور ڈی پی او کو فیلڈ میں کام کرنے کا فری ہینڈ دیں اور ان کو اپنی ٹیم بنانے کا موقع دیں تاکہ تھانہ کچہری اور ریونیو کے معاملات بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔ ایک عام آدمی کو زیادہ تر شکایات پولیس اور محکمہ ریونیو سے متعلقہ ہوتی ہیں۔ اگر حکومت ان دو محکموں کو درست کر لے تو عوام کی نوے فیصد شکایات حل ہو جاتی ہیں۔ پولیس اور محکمہ مال میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے اور یہ کہ وزیر اعظم سٹیزن پورٹل پر بھیجی گئی شکایات کا بروقت ازالہ ہو رہا ہے اور ان پر حکومت کارروائی بھی کر رہی ہے۔ جہاںعوام کو ریلیف ملتا ہے وہ وہیں پر شروع ہو جاتے ہیں۔ اس وقت وزیر اعظم سٹیزن پورٹل پر درج شکایات کو بروقت حل کرنے اور چیف سیکرٹری اور آئی جی کی توجہ کی وجہ سے ان شکایات کو حکومت سنجیدہ لے رہی ہے۔

 یہ وزیر اعلیٰ کی ڈیوٹی ہے کہ وہ چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنائیں اور انہیں اپنی ٹیم بنانے کا موقع دیں ، نہ کہ اوپر سے تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کریں۔ سیاسی مداخلت نہ ہونے کے اپنے نقصانات بھی ہیں جب یہ بیوروکریسی آزاد ہو جاتی ہے تویہی افسران عوام کیلئے فرعون کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لئے بند کر دیتے ہیں۔ محکموں کے سیکرٹری اپنے محکمہ کے وزیر کو بھی خاطر میں نہیں لاتے،جیسا کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن میں ہو رہا ہے، محکمہ ہائر ایجوکیشن کا وزیر کہہ رہا ہے کہ سیکرٹری اس کی اجازت کے بغیر ہی تقرر و تبادلے کر رہا ہے۔ محکموں کے سیکرٹری صرف وزیر اعلیٰ کی بات مانتے ہیں اور وزراءکو خاطر میں نہیں لاتے۔

 بے چارے صوبائی وزیر اپنے طور پر بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ بیوروکریسی کو سیاست سے آزاد کیا جائے لیکن ان پر چیک اینڈ بیلنس بھی رکھا جائے اور انہیں وزراءاور وزیراعلیٰ کو جواب دہ بنایا جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بیوروکریسی صوبے میں ایک الگ سے حکومت بنا ڈالے اور سٹیٹ کے اندر ایک اسٹیٹ بنا لے جس کے منفی اثرات پیدا ہونگے۔ ان تمام معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو فیصلے کرنا ہونگے ۔ بیوروکریسی کو کام کرنے میں ” سیاست فری “کیا جائے اور ساتھ ساتھ ان پر مکمل نظر بھی رکھی جائے۔ حکومت بس ایک بات پر عمل کرلے جس کا کام ہو اسی کو کرنے دیا جائے اور اس کے کام میں مداخلت نہ کی جائے۔جب بیوروکریسی آزاد ہوگی تو بہتر انداز میں کام کر سکے گی۔اس سے بہتری آئے گی جس کا کریڈٹ حکومت کو ہی ملے گا۔

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر