سیاست دانوں، بیوروکریٹس کے بعد پنجاب پولیس نیب کا اگلا شکار

سیاست دانوں، بیوروکریٹس کے بعد پنجاب پولیس نیب کا اگلا شکار

عرفان ملک : سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے بعد پنجاب پولیس بھی کے بھی کھاتے کھول لیے گئے، نیب نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ افسران نے کس کس ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر بنائے اور کیسے بنائے، سب کچھ پتہ چلے گا۔ آمدنی سے زیادہ اثاثوں کی بھی تحقیقات ہونگی۔

 سٹی 42 کے مطابق ایس ایس پی عبدالرب کی جانب سے سال دو ہزار بارہ سے سال دو ہزار پندرہ کے دوران اینٹی رائٹ فورس کے لیے خریدے گئے سامان میں خرد برد کی رپورٹ تیار کی گئی تھی۔ جس کے بعد اسی رپورٹ کی روشنی میں نیب لاہور نے پولیس میں گھپلوں میں ملوث افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں:  محکمہ داخلہ پنجاب نے انتخابی مہم کے دوران اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کردی

ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس افسران نے کس ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر اور بنگلے بنائے، نیب نے چھان بین شروع کر دی ہے۔ پنجاب پولیس میں 2012 سے 2015 کے دوران بلٹ پروف اور سردیوں کے جیکٹس کی خریداری کی چھان بین بھی شروع کردی۔

علاوہ ازیں ڈولفن ہیلمٹس، ہتھکڑیوں, چھتریوں اور اینٹی رائٹس فورس کے سامان کی خریداری میں بھی مبینہ گھپلوں کی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب نے آئی جی پنجاب آفس میں تعینات رجسٹرار اور اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مبینہ کرپشن کے شواہد جمع کرلیےہیں۔

پڑھنا مت بھولئے: کوٹ لکھپت میں ہیپاٹائٹس کے مریض نے خودکشی کرلی

دوسری جانب نیب نے آئی جی پنجاب سے پولیس اینٹی رائٹ اور ڈولفن سمیت دیگر سازوسامان کی خریداری کی تفصیلات اور ملوث افسران کی تفصیلات طلب کررکھی ہیں۔ مگر پنجاب پولیس نے تاحال مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔