سال2019 لاہورہائیکورٹ پربھاری رہا، خالی آسامیوں میں بھی اضافہ

سال2019 لاہورہائیکورٹ پربھاری رہا، خالی آسامیوں میں بھی اضافہ
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) سال2019 لاہورہائیکورٹ پربھاری رہا، تاریخ پرتاریخ ملنے سے بروقت انصاف کی فراہمی تاخیرکا شکار، ہائیکورٹ میں سال ختم ہونے پرخالی آسامیوں کی تعداد میں مزید اضافہ، سانحہ ماڈل ٹاون سمیت بدعنوانی کے متعددکیسزکے فیصلے نہ ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق سال دوہزار انیس کے دوران لاہورہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے تاریخ پرتاریخ پڑتی رہی، بروقت انصاف کی فراہمی کا عمل تاخیرکا شکار رہا، جس کی وجہ عدالت عالیہ میں ججزکی کمی سمیت دیگر کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں، ہائیکورٹ میں سال ختم ہونے پرخالی اسامیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا، اکتیس دسمبرکوایک ہی دن میں چیف جسٹس سمیت دوججز ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔

خالی اسامیوں کی تعداد17ہوجائے گی، صدر ہائیکورٹ بار حفیظ الرحمن چوہدری کہتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی کے لیے ججزکی تعداد پوری کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ رواں سال تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور یائیکورٹ میں کسی نئے جج کی تعیناتی عمل میں نہ آسکی، نئے بلدیاتی نظام اوربلدیاتی اداروں کی تحلیل کیخلاف درخواست پرسماعت مکمل نہ ہوسکی، سابق وزرائے اعظم نواز شریف اورشاہد خاقان عباسی کیخلاف حلف کی پاسداری کیخلاف درخواست پرفل بینچ کے سامنے سماعت نہ ہوسکی۔

وکلا کی عدم دستیابی کی وجہ سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، ہائیکورٹ میں حمزہ شہبازاوران کے کزن یوسف عباس کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ نہ ہوسکا۔ ہائیکورٹ میں رواں سال توہین عدالت کی درخواستوں میں کوئی کمی نہ آسکی، سائلین کواحکامات پرعمل کے لیے توہین عدالت کی درخواستیں دائرکرنا پڑیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے مختلف درخواستوں کیلیئے تقریباً چھ فل بنچ تشکیل دیئے۔ ضلعی حکومتوں کی تحلیل اورنئے ترمیمی ایکٹ کے خلاف درخواستوں پربھی فیصلہ نہ ہوسکا، سابق لارڈ میئرلاہورسمیت دیگر بلدیاتی نمائندوں نے درخواستیں دائر کی تھیں، قرض کے نادہندگان کی جائیدادوں کی نیلامی کے طریقہ کار کے متعلق درخواستوں پرفیصلہ بھی نہ ہوسکا۔

ضلعی عدالت کے معاملات کا جائزہ لینے والی ایڈمنسٹریشن کمیٹیاں ایک سے زائد بار تحلیل ہوئیں، دوہزار انیس چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان کے لیے خوشی کا سال ثابت ہوا، انکے ہاں پہلی اولاد بیٹا پیدا ہوا۔ وکلاء اور سائلین پرامید ہیں کہ نیا سال ان کے لیے اچھا ثابت ہوگااور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے وثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔