یوم عاشور کا مرکزی جلوس کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر

(سٹی 42 ) یوم عاشور آج ملک بھر میں‌نہایت عقیدت و احترام اور مذہبی رواداری کے ساتھ منایا جا رہا ہے, لاہور میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگیا، عزاداران نوحہ خوانی، ماتم، زنجیر زنی اور سینہ کوبی کر کے حضرت امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی لازوال قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

قتلِ حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حضرت امام حسین علیہ السلام سمیت شہدائے کربلا کی یاد میں لاہور میں یوم عاشور پر شبیہ علم اور ذوالجناح کا مرکزی جلوس تاریخی نثار حویلی سے کل رات برآمد ہوا جو  اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا آج شام کربلا گامے شاہ پہنچ کر الوداع ہوگیا، جلوس کے دوران عزاداروں کی نوحہ خانی، گریہ زاری ماتم اورزنجیرزنی جاری رہی۔

 شاہ است حسینؑ ،بادشاہ است حسینؑ

دین است حسینؑ، دین پناہ حسینؑ

سید مظعین عباس کاظمی نے مصائب اہل بیت بیان کئے جبکہ علامہ امجد علی عابدی نے شبیہ ذوالجناح برآمد کرایا، نثار حویلی سے برآمد ہونے والا جلوس  مختلف امام بارگاہوں سے ہوتا ہوا رنگ محل پہنچ گیا، جہاں  آغا جواد موسوی کی امامت میں نماز ظہرین ادا کی گئی، جلوس اپنے روایتی راستوں صرافہ بازار، گمٹی بازار، ڈبی بازار، سید مٹھابازار اور تحصیل بازار سے امام بارگاہ مبارک بیگم، بازار حکیماں، فقیر خانہ میوزیم سے ہوتا ہوا اونچی مسجد بھاٹی گیٹ پہنچا، جہاں نماز مغربین ادا کی گئی۔

غریب سادہ و رنگیں ہے داستان حرم

نہایت اس کی حسینؑ ابتدا ہے اسماعیلؑ

  یوم عاشور کے ماتمی جلوسوں کی وجہ سے شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جلوس کے روایتی راستوں کو خار دار تاریں اور بیریئر لگا کر مکمل بلاک کیا گیا اور وہاں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کا داخلہ بھی ممنوع قراردیا گیا، محکمہ داخلہ پنجاب کے قائم کردہ کنٹرول روم سے جلوس کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر لاہور کیپٹن(ر) سید حماد عابد نے کہنا تھا کہ یوم عاشور پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی، خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی، جلوس کے روٹ پر موبائل سروس بھی بند رہی۔

 نہ یزید کا وہ ستم رہا نہ وہ ظلم ابن زیاد کا

جو رہا تو نام حسینؑ کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا