پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور باولنگ کوچ کے انٹر ویوز مکمل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور باولنگ کوچ کے انٹر ویوز مکمل

حافظ شہباز: پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور باولنگ کوچ کے انٹرویوزمکمل ہوگئے، ہیڈ کوچ  کیلئے سامنےآنے والے امیدواروں میں سے کسی کو10 ٹیسٹ میچز میں کوچنگ کا تجربہ نہیں۔

کون ہوگا قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ اورکون قومی باولرز کو سکھائے گا داوپیچ؟   پی سی بی کوچ فائنڈنگ کمیٹی کی تجاویزکی روشنی میں چئیرمین چندروزمیں کوچز کا تقررکریں گے۔ سابق کپتان اورکوچ وقاریونس باولنگ کوچ کے عہدے کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، وقاریونس اس سے قبل ایک مرتبہ باولنگ کوچ اوردومرتبہ ہیڈ کوچ نبھا چکے ہیں۔

دوہزارسات میں وقاریونس نے باولنگ کوچ کی حیثیت سےعمرگل، جنیدخان، محمدآصف اوردیگرباولرزکی صلاحیتیں نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا،2011 میں وقاریونس کی کوچنگ میں قومی ٹیم نےآخری مرتبہ ورلڈکپ سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ دوہزار چودہ  سے 2016 کے دوران وقاریونس دوبارہ ہیڈ کوچ بنے، اس دوران قومی ٹیم  نے ورلڈکپ 2015 کے کوارٹرفائنل کیلئے کوالیفائی کیا جبکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ٹیم کو ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر پہنچانے میں وقاریونس کا اہم کردار تھا۔

ہیڈ کوچ کے عہدے کےامیدوار سابق آسٹریلوی بلے باز ڈین جونزکو بین الاقوامی سطح پر کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں تاہم وہ مختلف لیگزمیں کوچنگ کا تجربہ رکھتے ہیں، کرکٹ حلقوں میں ڈینو کے نام سے مشہور ڈین جونزکی بطورکوچ پی ایس ایل میں دومرتبہ اسلام آباد یونائیٹڈ کو چیمپئن بنوا چکے ہیں۔ سابق اوپنرمحسن حسن خان بھی کوچنگ کا مختصر تجربہ رکھتے ہیں ان کی کوچنگ میں پاکستان نےا نگلینڈ کی ورلڈ نمبرون ٹیسٹ ٹیم کوکلین سویپ شکست دی تھی، ہیڈ کوچ کے مضبوط امیدوار پاکستان کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق کوچنگ کاکوئی وسیع تجربہ نہیں رکھتے،۔

مصباح الحق حال ہی میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔

مصباح الحق کوبین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں، بطور کھلاڑی کامیابیاں حاصل کرنیوالے مصباح الحق کیلئے کوچنگ ایک نیا تجربہ ہوگا، قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ اور باولنگ کوچ کوئی بھی ہو ایک بات طے ہے کہ نئے کوچ کیلئے کرکٹ کو کامیابیوں کی راہ پر گامزن کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔      

شازیہ بشیر

Content Writer