اورنج لائن ٹرین منصوبہ کیس، چیف جسٹس پاکستان نے عبوری حکمنامہ جاری کردیا


(درنایاب) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کی ادائیگیاں کرنے کا عبوری حکم جاری کردیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاہوریئے اورنج لائن ٹرین منصوبے میں اتنی تاخیربرداشت نہیں کرسکتے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کی، پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ پہلی ٹرین ممکنہ طورپر 30 جولائی 2019 کو چلے گی، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور ماس ٹرانزٹ، نیسپاک اور ایل ڈی اے سے تاخیر کی وجہ دریافت کی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے پر16 مئی کے بعد ادائیگی نہیں کی گئی۔ تین ماہ سے کنٹریکٹرز منصوبے کی مالی مشکلات کا شکار ہیں،  نیسپاک نے بلا جواز اعتراضات لگا کر ادائیگیاں روک دیں۔ تعمیراتی کام فنڈز نہ ملنے کے باعث تاخیر کا شکار ہوگیا۔ مجموعی طور پر اورنج لائن منصوبے پر سات ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں التوا کا شکار ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے کہ منصوبے کی رکاوٹیں ہمیں ہی دور کرنا پڑیں گی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ٹھیکیداروں کو روسٹرم پر بلالیا اور استفسار کیا کہ میٹرو اتھارٹی کا سربراہ کون ہے۔جس پر ٹھیکداروں نے جواب دیا وزیراعلیٰ پنجاب ہے۔

چیف جسٹس نے سابق دور میں شروع ہونے والے منصوبے پر وزیراعلیٰٰ پنجاب  عثمان بزدار کو عدالت طلب کرلیا، جس پر پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ عدالت کے تعاون سے ہمیں خاصی مدد ملے گی، وزیر اعلیٰ کو نہ بلائیں 11 ماہ میں منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔