بیٹے نے ہیڈ کانسٹیبل باپ کو مار ڈالا

dead body
dead body

(ویب ڈیسک)لاہورکے علاقے ہڈیارہ میں سوتیلے بیٹے نے جائیداد کے تنازع پر ہیڈ کانسٹیبل باپ کو قتل کردیا اور فرار ہو گیا جبکہ ملزم کی فائرنگ سے بھائی بھی زخمی ہوا۔

عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے خوفناک رحجان کی وجہ سے دنیا بھر میں تشدد قتل وغارت کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے،یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہوچکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفت معاشرے سے عنقا ہوچکی ہے۔ لاہورکے علاقے ہڈیارہ میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں سوتیلے بیٹے نے جائیداد کے تنازع پر ہیڈ کانسٹیبل باپ کو قتل کردیا۔

مقتول الطاف سپیشل برانچ میں ہیڈ کانسٹیبل تھا، اس نے دو شادیاں کر رکھی تھیں، دوسری بیوی کے پہلے خاوند سے ایک بیٹا حفیظ بھی ساتھ رہتا تھا۔پولیس نے بتایا کہ مقتول نے ہڈیارہ گاؤں میں 3 مرلے کا مکان فروخت کیا تو سوتیلے بیٹے حفیظ نے حصہ مانگا، انکار پر ملزم حفیظ نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں الطاف موقع پر ہلاک اور اس کا حقیقی بیٹا عابد زخمی ہو گیا۔

پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کرکے ملزم کی تلاش شروع کردی۔ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ کو ملزم کی جلد گرفتاری کی ہدایت کردی۔پولیس کا کہنا ہے جلد ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔

ماہرین نفسیات کے مطابق عدم برداشت کسی بھی جرم کی سب سے بنیادی وجہ ہے،  اگر صرف برداشت کی صلاحیت کو مضبوط کر لیا جائے تو کسی بھی معاشرے سے 90فیصد جرائم کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ یہ بات حقیقت کے بالکل قریب ہے کیونکہ ہر جرم کی داستان کے پیچھے عدم برداشت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔