فالج کی آگاہی سےمتعلق عالمی دن آج منایا جارہا ہے

World Stroke Day
World Stroke Day

 ویب ڈیسک:دنیا بھر میں آج فالج کی آگاہی کے حوالے سے عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کو ملنے والی خون کی فراہمی یا تو معطل ہو جاتی ہےدماغی شریان پھٹنے سے خون رسنے لگتاہے، سٹروک یا فالج کا خطرہ ذیادہ تر ہائی بلڈ پریشر، شوگر، اور زہنی دباو کے شکار افراد میں ہوتا ہے

دنیا بھر میں آج فالج کی آگاہی کے حوالے سے عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کو ملنے والی خون کی فراہمی یا تو معطل ہو جاتی ہے یا دماغی شریان پھٹنے سے خون رسنے لگتاہے، سٹروک یا فالج کا خطرہ ذیادہ تر ہائی بلڈ پریشر، شوگر، اور زہنی دباو کے شکار افراد میں ہوتا ہے

ماہرین کے مطابق روزانہ ورزش،بلڈ پریشر اور شوگر پر کنڑول سے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے

دنیا بھر میں آج فالج کی آگاہی کے حوالے سے عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کو ملنے والی خون کی فراہمی یا تو معطل ہو جاتی ہے یا دماغی شریان پھٹنے سے خون رسنے لگتاہے۔ محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں اس مرض میں مبتلا افراد کی شرح ساڑھے چار لاکھ سے زائد ہے۔  

سٹروک یا فالج کا خطرہ ذیادہ تر ہائی بلڈ پریشر، شوگر، اور زہنی دباو کے شکار افراد میں ہوتا ہے،،دنیا بھر میں فالج سے  ہر سال تقریباً ساٹھ لاکھ افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔  

ماہرین کے مطابق روزانہ ورزش،بلڈ پریشر اور شوگر پر کنڑول سے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے تاہم اگر اس بیماری پر کنٹرول نہ کیا گیا تو سال 2030 تک اس مرض کا شکار افراد کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

فالج کی 9 پیشگی علامات

   فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی فراہمی میں کمی آ جائے۔ دماغ کو آکسیجن کی فراہمی بھی کم ہونے سے صح مند خلیے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔اگرچہ فالج کے بارے میں سوچنا ڈرادینے والی بات ہے لیکن اس سے بھی اہم یہ ہے کہ اگرا نسان چوکس رہے تو وہ خود کو فالج کے متوقع حملے سے بچا سکتا ہے۔ کیسے ؟

36 ہزار میڈیکل پروفیشنلز کی رکنیت رکھنے والی تنظیم   امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی ‘‘ اس شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ اس کے مطابق    فالج کی علامات کم از کم ایک ہفتہ پہلے ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہیں‘‘ ۔اکیڈمی نے اپنے زیر انتظام نکلنے والے جریدے میں لکھا ہے کہ   ایک ہفتے قبل ظاہر ہونے والی علامات کے بعد علاج سے فالج کے حملے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے‘‘۔

 تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فالج کے حملے    اسکمک ‘‘(ischemic) یعنی خون کی فراہمی میں کمی کے باعث بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ خون کی نالیوں کاکمزور پڑ جانا، ان سے خون کا رسنا یا خون کے جمنے سے بہائو میں کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔اکثر کیسوں میں   transient ischemic attack (TIA)‘‘ بھی ہو سکتے ہیں انہیں پیشگی حملہ کہا جاتا ہے یعنی فالج کی پیشگی علامات۔آپ اس کیفیت کو   منی فالج ‘‘بھی کہہ سکتے ہیں۔یہ کیفیت پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں ختم ہو جاتی ہے اور اس سے دماغ کا کوئی حصہ متاثر نہیں ہوتا۔

امریکی اکیڈمی نے 2416افراد پر تحقیق کے بعد بتایا کہ    ان میں سے 549مریضوں نے پیشگی علامات کو محسوس کیا تھا۔اور یہ حملے سے کوئی سات دن کے اندر اندر نمایاں ہوئیں۔17فیصد مریضوں کی اس حوالے سے علامات ظاہر ہوئیں۔9فیصد مریضوں کو ایک دن پہلے اور43 فیصد مریضوں نے سات یا اس سے زیادہ دن پہلے علامات کو محسوس کیا تھا۔

ایک اور تحقیق کے مصنف ڈاکٹر پیٹر ایم راتھویل (آکسفرڈ میں ڈیپارٹمنٹ آف نیورولوجی کے ڈاکٹر آف میڈیسن ) کا کہنا ہے کہ   یہ جاننے کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مریض کو ملنے والی طبی سہولت کتنی کارگر ثابت ہو سکتی ہے،تاہم کسی بھی بڑے حملے سے کافی پہلے اگر ابتدائی علامات کے ظہور کے فوراََ بعد یا چند گھنٹوں کے اندر اندر علاج ہو جائے تو فالج سے بچنے کی امید ہے۔ تاخیر سے علاج میں شائد فائدہ نہ ہو ‘‘۔ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ   دیگر امراض کی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ فالج کی بھی پیشگی علامات ظاہر ہوتی ہیں جنہیں ہم فالج کا ابتدائی حملہ بھی کہہ سکتے ہیں اور اگر کوئی فرد چوکس ہے تو وہ خود کو فالج سے بچا سکتا ہے‘‘۔

ہچکیاں:خواتین کو آنے والی ہچکیاں بھی فالج کی پیشگی اطلاع سمجھی جاتی ہیں۔ دس فیصد خواتین کو فالج سے پہلے ہچکیاں آئی تھیں ۔

رویے میں تبدیلی:دماغی کیفیت میں کسی بھی وجہ سے تبدیلی آ سکتی ہے لیکن اس کی طبعی وجوہات بھی ہوسکتی ہیںجیسا کہ فالج۔   نیشنل سٹروک ایسوسی ایشن ‘‘ کے مطابق،    فالج سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو فرد کی شخصیت اور یادداشت کوبھی کنٹرول کرتے ہیں۔جبکہ شخصیت کا تعلق   فرنٹل لوب ‘‘سے بھی ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو اپنے روئیے میں تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو فالج کا صرف شک کرتے ہوئے ڈاکٹر سے رجوع کیجئے ۔

متلی یا قے:دماغ کے ایک حصے (Cerebellum)میں سٹروک سے سر چکرانے یا متلی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ کیونکہ خون کی نالیاں رسنے سے دما غ میں خون نکلنا شرو ع ہوجاتا ہے ۔اس سے ہالیوسینشین (Hallucination)اور ہائی بلڈ پریشر کی شکایت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔